پنڈی حملہ:’مشتبہ افراد زیرِ حراست‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جی ایچ کیو راولپنڈی کے قریب پیر کو ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اس ضمن میں ایس ایس پی آپریشن یٰسین فاروق کی سربراہی میں ایک تفتیشی ٹیم بنا دی گئی ہے جبکہ ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی اپنے طور پر اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تھانہ آر اے بازار پولیس نے اس واقعہ کی ایف آئی آر بھی سیل کر دی ہے جبکہ پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس نے اس واقعہ میں کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے تاہم پولیس کے حکام نے ان افراد کی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔ پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ انہیں جائے حادثہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر ملا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور کی عمر اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان تھی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور کے سر اور چہرے کی سرجری کے لیے اسے فوجی ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے۔ پولیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور نے اس دھماکے میں چار کلو سے زائد دھماکہ خیز مواد استعمال کیا اور جائے حادثہ سے دھماکہ خیز مواد کے نمونے اکھٹے کر لیبارٹری میں بھجوا دیے گئے ہیں۔ آزاد ذرائع کے مطابق پیر کو این ایل سی کے گیٹ کے سامنے ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہے۔ ذرائع کے مطابق صرف ملٹری ہسپتال میں بیس زخمی لائے گئے تھے جن میں سے سات ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زیادہ تعداد میں زخمیوں کو سی ایم ایچ میں پہنچایا گیا تھا۔ اس حملے میں ایک خاتون میجر کی دونوں ٹانگیں اور ایک خاتون میجر کی ایک ٹانگ ضائع ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی میں آرمی میڈیکل کالج کے ڈاکٹرز اور طلباء سوار تھے جو کہ سی ایم ایچ میں اپنی کلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ واضح رہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران راولپنڈی میں شدت پسندوں نے چھ مرتبہ فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے اور سب سے زیادہ دھماکہ خیز مواد اس گاڑی میں رکھا گیا تھا جس نے فیض آباد کے قریب اوجڑی کیمپ کے سامنے آئی ایس آئی کی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا اور ماہرین کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور کی گاڑی میں دس کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔ ان حملوں کی تحقیقات کے حوالے سے پولیس کا کردار نہ ہونے کے برابر رہا ہے اور فوجی انٹیلیجنس ایجنسیاں اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ ان دھماکوں کے حوالے سے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی ان دھماکوں کے ذمہ دار خودکش حملہ آوروں کی تصاویر ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئی ہیں۔ | اسی بارے میں راولپنڈی: خودکش حملہ، سات ہلاک04 February, 2008 | پاکستان پنڈی خودکش حملے، 25ہلاک04 September, 2007 | پاکستان اکثر ہلاک شدگان محکمۂ دفاع کے04 September, 2007 | پاکستان خود کش حملےمیں پانچ ہلاک01 February, 2008 | پاکستان امام بارگاہ:خود کش حملہ، 10ہلاک17 January, 2008 | پاکستان انسدادِ دہشتگردی کے جدید آلات29 January, 2008 | پاکستان کامرہ راکٹ حملہ، میس کو نقصان17 January, 2008 | پاکستان امن وامان کی خرابی میں غیرملکی ہاتھ28 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||