اٹھارہ سالہ لڑکا آیا اور پھر دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں اتوار کی صبح ہونے والے مبینہ خودکش حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی وہاں ایک بڑا آگ کا شعلہ بلند ہوا اور کئی منٹوں تک وہاں اندھیرا اور ہوا میں دھواں سا چھایا رہا۔ جرگہ میں شریک ایک قبائلی ملک خواگا جان نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے سے چند منٹ قبل انہیں ایک ساتھی نے آواز دی اور وہ جائے وقوعہ سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’ دھماکے کے بعد وہاں قیامت کا منظر تھا، ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور انسانی اعضاء دور دور تک زمین پر بکھرے ہوئے پڑے تھے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ میں نے خود دیکھا کہ ایک اٹھارہ سے بیس سال کا لڑکا آیا اور جرگہ کے اندر شامل ہوگیا اور پھر کچھ ہی لمحوں کے بعد ایک طاقت ور دھماکہ ہوا۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر ساتھی نے انہیں آواز نہیں دی ہوتی تو شاہد وہ بھی اس دھماکے کا نشانہ بنتے ۔ ملک خواگا جان کے مطابق جرگہ میں کوئی اٹھ سو کے قریب قبائلی مشران جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دھماکے میں کئی سرکردہ قبائلی مشران جان بحق ہوئے ہیں جن میں ملک حاجی خاقان، ملک مدمیر، ملک نسیم ، ملک شیر افضل خود تو زخمی ہیں لیکن ان کا بیٹا ہلاک ہوا ہے۔ اس طرح قبائلی سینیٹر عبد الرازق کے والد حاجی خان گل بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ملک خواگا جان نے کہا کہ ’ درہ آدم خیل کے عوام پر ایک عذاب نازل ہوا ہے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے مشران اور جوان سب باری باری ختم ہورہے ہیں۔‘ جائے وقوعہ پر موجود ایک اور عینی شاہد باچا سید نے بتایا کہ دھماکے میں ان کے چار رشتہ دار جان بحق ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ پر کئی افراد خون میں لت پت مدد کے لئے تڑپ رہے تھے اور ہر طرف چیخ و پکار تھی۔’میں نے اپنے ہاتھوں سے پچیس لاشوں کو گاڑیوں میں ڈالا ہے۔ کئی افراد خون بہہ جانے سے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے درہ آدم خیل میں زخمیوں کو طبی امداد دینے کا کوئی انتظام نہیں تھا لہذا زیادہ تر زخمیوں کو کوہاٹ اور پشاور منتقل کیا گیا۔ | اسی بارے میں طالبان کی حکمتِ عملی میں ایک اور تبدیلی02 March, 2008 | پاکستان جھڑپوں میں کمی، طالبان کی’پسپائی‘ 28 January, 2008 | پاکستان درہ: ہتھیار برآمد، ٹنل کھول دی گئی01 February, 2008 | پاکستان ’درے سے شدت پسندوں کا صفایا‘29 January, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل میدان جنگ بننے تک 28 January, 2008 | پاکستان ’خود کش حملے، تحقیق کا مطالبہ‘ 02 January, 2008 | پاکستان ’ امریکہ کی خاطر مروایا جا رہا ہے‘ 02 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||