BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درہ: ہتھیار برآمد، ٹنل کھول دی گئی

درہ آدم خیل ہتھیار
طالبان کے مراکز اور مورچوں سے بھاری مقدار میں ہتھیار قبضہ میں لیے ہیں: حکومت
صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے طالبان کے مراکز سے اینٹی ایئر کرافٹ ہتھیار اور راکٹ لانچروں سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے۔

دوسری طرف حکام نے گزشتہ ایک ہفتے سے بند کوہاٹ سرنگ کو چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے درہ آدم خیل میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی لڑائی کے ایک ہفتے بعد جمعہ کو پشاور کے صحافیوں کو پہلی مرتبہ علاقہ کا دورہ کرایا۔

صحافیوں کو دی گئی بریفنگ کے دوران حکام نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے طالبان کی جانب سے علاقہ کے چھوڑے جانے کے بعد انکے مراکز اور مورچوں سے بھاری مقدار میں ہلکے اور بھاری ہتھیار قبضہ میں لیے ہیں۔

ان ہتھیاروں میں ستتر اور پینتیس ہزار میٹر تک مار کرنے والے دو اینٹی ایئر کرافٹ اور انکے تیئس ہزار گولے، راکٹ لانچر، دستی بموں کا خود کار نظام، مشین گن، کمپیوٹرز، جہادی سی ڈیز اور لٹریچر شامل ہیں۔

کوہاٹ ٹنل
کوہاٹ سرنگ کوجمعہ یا ہفتے کے دن سے چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا

اس موقع پرصحافیوں کو کوہاٹ ٹنل کا دورہ بھی کرایا گیا جس پر گزشتہ جمعہ کو طالبان نے قبضہ کیا تھا۔ کوہاٹ ٹنل کے آپریشن منیجر ایئر کموڈر نیئر قیوم نے صحافیوں کو بتایا کہ کوہاٹ سرنگ کوجمعہ یا ہفتے کے دن سے چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ سرنگ کے مکمل طور پر کھلنے میں تقریباً ایک ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طالبان کی جانب سے ٹنل کے اندر مبینہ طور پر بارود سے بھری گاڑی اڑانے کی وجہ سرنگ کی چھ سو لائٹس اور ایک کلومیٹر تک کیبل سسٹم تباہ ہوگیا ہے۔ انکے بقول ٹنل کو مجموعی طور پر کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ درہ آدم خیل بازار جزوی طور پر کھل گیا ہے لیکن تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بدستور بند ہیں۔انکے بقول لڑائی کے دوران نقل مکانی کرنے والے خاندان واپس لوٹ رہے ہیں تاہم مقامی آبادی میں اب بھی خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل میں طالبان کیخلاف آپریشن شروع کیا تھا جسکے دوران فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔ ان جھڑپوں میں حکومت کے دعویٰ کے مطابق پچاس سے زائد طالبان جنگجؤوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ تاہم طالبان ان حکومتی دعویٰ کی تردید کی تھی۔

حکومت کا کہنا ہے طالبان نے تیرہ یرغمال فوجیوں سمیت مجموعی طور پر اٹھارہ فوجیوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تیرہ فوجیوں کی لاشیں برآمد
30 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد