مناء رانا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | ’قیمت میں تین کلو آٹا آتا تھا اب ایک کلو آٹا ملتا ہے‘ |
’ہمارے لیے تو آٹا اس طرح ناپید ہو رہا ہے جیسے کربلا کے میدان میں پانی میسر نہیں تھا‘۔ یہ الفاظ ہیں پروین بی بی کے جو ایک چوکیدار کی بیوی ہیں اور ان کے دس بچے ہیں۔ ان کے شوہر روزانہ ڈیڑھ سے دو سو روپے کما لیتے ہیں۔ پروین بی بی کا کہنا ہے کہ’ایک روٹی ہی تو ہے جو ہم غریب لوگوں کا پیٹ بھرتی ہے اور اب ہمیں اس روٹی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’خاندان بڑا ہونے کے سبب ان کے گھر زیادہ روٹیاں پکتی ہیں اور زیادہ آٹا درکار ہوتا ہے اب جس قیمت میں تین کلو آٹا آتا تھا اب اس قیمت میں ایک کلو آٹا ملتا ہے اور ہمارے وسائل ایسے نہیں کہ اتنا مہنگا آٹا خرید سکیں اس لیے میرے تو بچوں کا پیٹ ہی نہیں بھر پا رہا‘۔ پروین بی بی کہتی ہیں کہ ’جب آٹا سستا تھا تو بھی ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی تھی کہ بیس کلو آٹا اکٹھا خرید لائیں۔ بس روز کے روز کبھی چار کلو تو کبھی پانچ کلو آٹا لے آتے تھے اور اب تو بمشکل دو کلو آٹا خریدنے کی استعداد ہے کہ جس سے میرا خاندان ایک وقت کی روٹی ہی کھا سکتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ آٹا خریدنا بھی ایک بہت بڑا مرحلہ ہے میرے بچے گھنٹوں لائن میں کھڑے ہو کر آٹا خریدتے ہیں۔ پروین اپنی مشکلات کا تزکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’اگر آٹا کسی نہ کسی طرح خرید لیتے ہیں تو چولہا جلانے کے لیے مٹی کا تیل خریدنے کی طاقت نہیں رہتی کیونکہ مٹی کا تیل بھی بہت مہنگا ہے اور پچاس روپے میں صرف ایک لیٹر تیل ملتا ہے‘۔ پروین نے کہا کہ’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے ان سے کہو کہ اس طرح مارنے کی بجائے زہر دے کر مار دیں‘۔  | | | ’میرا خاندان ایک وقت کی روٹی ہی کھا سکتا ہے‘ |
نور فاطمہ پروین کی ہمسائی ہیں ان کے حالات پروین سے بھی گئے گزرے ہیں کیونکہ ان کا کمانے والا اب اس دنیا میں نہیں ان کے گیارہ بچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہم تو پہلے ہی بڑی مشکل سے گزارا کرتے تھے اس پر آٹے کے قیمتوں کے بڑھنے سے اور مصیبت میں آ گئے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ’ہم روزانہ ضرورت کے تحت آٹا خریدتے ہیں اور ایک دن میں میں اور میرے بچے تین کلو آٹا کھاتے تھے اور اب کئی دنوں سے ہم ایک یا ڈیڑھ کلو آٹے میں گزارہ کرتے ہیں اور جس دن لاہور میں بم دھماکا ہوا اس دن نہ صرف ہمارے بلکہ محلے کے دوسرے گھروں میں بھی کئی لوگ بھوکے سوئے کیونکہ آٹا اس دن پچاس روپے کلو بکا جسے خریدنے کی ہم میں سکت نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ میرے بیوہ ہونے کے سبب محلے والے مجھے ادھار وغیرہ دے دیتے تھے لیکن آٹے کی قیمتوں نے سب کو اتنا بے حال کر دیا ہے کہ کوئی کسی کو ادھار بھی نہیں دے سکتا کیونکہ سبھی تو غریب ہیں۔ |