BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 January, 2008, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگامے: معاشی، معاشرتی مسائل کا حل لازمی ہے

لاہور میں بی بی ہنگامے
لوٹ مار لوگوں کی جھنجھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔
بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں املاک کا نذر آتش کیا جانا اور اشیاء خوراک کا لوٹا جانا ماہر نفسیات کی نظر میں ذہنی انتشار اور جھنجلاہٹ کا نتیجہ ہے۔

ان کے مطابق بےروزگاری، تعلیم کی کمی اور صحت کی سہولیات تک عدم رسائی جیسے بنیادی عوامل عام آدمی کی ذہنی صحت کو نہ صرف بری طرح متاثر کرتے ہیں بلکہ اسے مستقبل سے مایوس اور جھنجھلاہٹ کا شکار بھی کرتے ہیں۔

ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پورے ملک میں سوگ کا عالم تھا۔ اس واقعہ کے ردعمل کے طور پر سرکاری اور نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا اور اشیاء خوراک کو لوٹا گیا۔

ایک شہری کے مطابق وہ اُس دن گلشنِ اقبال کے علاقے میں ٹریفک میں پھنس گئے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ سو افراد اچانک نمودار ہوئے اور انہوں نے گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کردیا۔ جو لوگ اپنی گاڑیوں میں تھے اپنی جانیں بچانے کے لئے گاڑیاں چھوڑ کر بھاگنے لگے اور میں بھی بھاگا۔ بعد میں ہجوم نے گاڑیوں کو آگ لگادی اور میری گاڑی بھی جل گئی۔

شہر اور صوبے کے دیگر حصوں میں کئی مقامات پر دکانوں اور گوداموں کے تالے توڑے گئے اور وہاں سے اشیاء خوردونوش لوٹ کر ان دکانوں اور گوداموں کو بھی نذرآتش کردیا۔

اس قسم کے ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سید علی واصف نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لوگوں کی فرسٹریشن یا جھنجھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جس معاشرے میں بے روزگاری ہو گی تو وہاں یقیناً جھنجھلاہٹ ہوگی۔ اس فرسٹریشن کا فائدہ لوگ یا گروہ مختلف انداز سے اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے ایک امریکی ماہر نفسیات برینر کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برینر نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سوئیڈن میں ایک تحقیق کی تھی۔

ان کا تجزیہ تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد معاشی بدحالی آئی تھی اور اس کے نتیجے میں معاشرہ میں جارحانہ رجحانات میں اضافہ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ خودکشی کی کوشش کرنے والوں میں اضافہ ہوا تھا، اور خوراک کے فقدان کی وجہ سے بچوں، خواتین اور ضعیف العمر افراد میں بیماری کی شرح میں اضافہ ہوا تھا اور صحت کی سہولیات تک رسائی مشکل تھی۔

 ایک عام آدمی اس ذہنی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ اپنی معاشی بدحالی کو دور کرنے کے لئے استحصال کا شکار ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم و بیش یہی عوامل دنیا کے مختلف ممالک کی طرح ہمارے یہاں بھی موجود ہیں اور اس کی وجہ معاشی عدم استحکام ہوتا ہے۔ ایک عام آدمی اس ذہنی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ اپنی معاشی بدحالی کو دور کرنے کے لئے استحصال کا شکار ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر سید علی واصف کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے یہاں صحت، تعلیم اور ذہنی صحت کی جانب توجہ دیں اور معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل کی طرف جائیں تو ہم حالیہ بدترین واقعات پر مستقبل میں قابو پا سکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں وار آن ٹیرر (دہشت گردی کے خلاف جنگ) سے نمٹنے کے لئے ہتھیاروں کی نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور بے روزگاری جیسے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جب انسان کو بنیادی ضروریات میسر ہوں گی تو میں نہیں سمجھتا کہ اس کو کوئی فائدہ اٹھا سکے گا اور وہ کسی کے ہاتھوں میں کھیلے گا‘۔

’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
شادی اور بربادی
میرج ہال، ٹرانسپورٹروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا
رینجرزمحافظ یا کاروباری
نوابشاہ میں رینجرز کا سرکاری عمارتوں پر قبضہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد