BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 January, 2008, 18:15 GMT 23:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی معیشت، بحرانوں کی زد میں
گندم
’وہ وقت مناسب نہیں تھا جب گندم کا پیداواری تخمینہ لگایا گیا‘
پاکستان کے ایک غیر سرکاری ماہر معیشت قیصر بنگالی کے مطابق ملک میں گندم کا بحران حکومت کی مکمل نااہلی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے آٹھ سالوں سے معیشت چند گروہوں کے ہاتھوں میں رہنے کی وجہ سے اب مسائل سامنے آ رہے ہیں۔

قیصر بنگالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’حکومت نے پہلے فاضل پیداوار کے غلط اعداد و شمار دیئے اور پھر واضح ہوگیا کہ گندم کی پیداوار اتنی نہیں ہے جتنی بتائی گئی ہے تو پھر درآمد کرنے میں تاخیر کی گئی۔‘

ان کے مطابق وہ وقت مناسب نہیں تھا جب گندم کا پیداواری تخمینہ لگایا گیا۔ ’ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ کسی کو گندم برآمد کرنے کی اجازت دینا تھی۔‘

قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ نیب نے چینی کے بحران کی تفتیش کرنا چاہی تو اسے روک دیا گیا اور یہ سگنل دیا گیا کہ چند لوگ ریاست میں ایسے ہیں جو کوئی بھی حرکت کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی پکڑنے والا نہیں ہے۔

لنگڑی معیشت
 معیشت کو صرف ایک پیر پر کھڑا کیا گیا، جس کا انحصار بینکوں کے کنزیومر کریڈٹ پر تھا
قیصر بنگالی

انہوں نے کہا کہ معیشت کی صحت کا اندازہ اگر صرف سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر لگایا جائے تو پھر اس طرح کے بحران تو ناگزیر ہیں۔ ’مجھے افسوس سے یہ کہنا ہے کہ ہم اور بھی ایسے بحران دیکھیں گے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور سات فیصد سے زائد سالانہ ترقی کا ڈھنڈورہ پیٹتی آ رہی ہے تو قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ کئی معیشت دان پچھلے پانچ سال سے مستقل کہہ رہے ہیں کہ یہ اعداد و شمار ٹھیک نہیں ہیں اور اس حوالے سے ثبوت بھی پیش کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کو صرف ایک پیر پر کھڑا کیا گیا، جس کا انحصار بینکوں کے کنزیومر کریڈٹ پر تھا۔ ’اس طرح بینکوں نے بے شمار منافع کمایا۔ جس سال معیشت میں آٹھ اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا تھا اس سال بینکوں کا اضافہ تقریباً تیس فیصد تھا۔ یہ جو قرضہ تھا گاڑیاں خریدنے کے لیے دیا جاتا تھا یعنی آٹو موبیل سیکٹر، اور اس سیکٹر کا گروتھ ریٹ پینتالیس فیصد تھا۔‘

معیشت کی صحت کا اندازہ صرف سٹاک مارکیٹ کی بنیاد پر لگایاگیا
قیصر بنگالی نے کہا کہ جس طرح جنرل ضیاء الحق ایک بہت بڑا قرض کا پہاڑ چھوڑ گئے تھے جو سیاسی حکومتوں کو ادا کرنا پڑا انیس سو نوے کی دہائی میں، اسی طرح (مشرف حکومت) آٹھ سال کی معاشی بدانتظامی اور نااہلی چھوڑ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت آئے گی تو اسے مسائل کے پہاڑ کا سامنا کرنا ہوگا اور ان کی پیشگی ہمدردی وزیر خزانہ کے لیے ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے دفاعی اخراجات کو کم کرنا ضروری ہو چکا ہے۔

کراچی بازارِ حصصپاکستان میں تنزلی
ایمرجنسی نے معاشی ترقی کا رخ بدل دیا
 ضلع کرک میں تیل اور گیس کے ذخائر ترقی مگر خطرات
سرحد میں ذخائر کوشدت پسندی سےممکنہ خطرہ
گندمترقی یا سراب
زرعی ملک میں زراعت پر زوال، صنعت میں ترقی
کراچیکراچی میں تشدد
سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوگی
پیسے سے بھرا بیگاس سال کی معیشت
تجارتی خسارے کی وجہ سے قرض لینا ہو گا
معاشی ترقی کا واہمہ
’گیارہ ستمبرکے بعد کا ہنی مون ختم ہوچکاہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد