BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 September, 2007, 19:01 GMT 00:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاشی سرگرمیاں اور ممکنہ خطرات

ضلع کرک میں تیل اور گیس کے ذخائر
عوام کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیوں سے کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے

‌صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع کرک کے پُرفضاء مقام گُرگُری میں سرسبز پہاڑوں کے بیچ لگے تیل اور گیس کے پیداواری یونٹ سے مقامی آبادی کوخوشحال مستقبل کے حوالے سے بے انتہا توقعات وابستہ ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ سچ لیکن پسماندگی میں ڈوبے ان علاقوں کے لیے ترقی اور خوشحالی کی نوید لیے بڑھتے ہوئے نئےمعاشی مواقع اردگرد کے علاقوں، خصوصاٌ وزیرستان میں پائی جانے والی شدت پسندی کی لہر اور لاقانونیت کی وجہ سے ممکنہ خطرات سے دوچار ہیں۔

گو کہ تیل اور گیس کی پیداوار سے معاشی طور پر کمزور صوبہ سرحد کی حکومت کوگزشتہ تین سالوں میں خاطر خواہ مالی فائدہ ہوا ہے، تاہم قدرتی وسائل کے حامل علاقوں کے عوام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں سے ان کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔

ضلع کرک میں گُرگُری کے مقام پر واقع تیل اور گیس فیلڈ سے کمرشل پیداوار جنوری دو ہزار پانچ میں شروع ہوئی جبکہ کرک ہی میں مکوڑی کے مقام پر واقع فیلڈ سے تیل اور گیس کی کمرشل پیداوار جنوری دو ہزار چھ میں شروع ہوئی۔

 صوبائی حکومت پُر امید ہے کہ آنے والے سالوں میں قدرتی وسائل کی پیداوار میں اضافہ کی بدولت اس کی سالانہ آمدن میں مذید اضافہ ہوگا۔

ان سے پہلے ضلع کرک سے ملحقہ ضلع کوہاٹ میں شکردرہ کے مقام پر آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے زیرِ انتظام چلنے والے چندہ آئل اینڈگیس فیلڈ سے پیداوار جولائی دو ہزار چار میں شروع ہوئی تھی۔

صوبہ سرحد کے محکمۂ خزانہ کے اہلکاروں کے مطابق، تیل اور گیس کی کمرشل پیداوار کے نتیجے میں صوبہ سرحد کو آئین کے آرٹیکل ایک سو اکسٹھ کی شق
( ایک) کے تحت تیل اور گیس رائیلٹی اور اس کے علاوہ گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج کی مد میں ملنے والی سالانہ آمدن مالی سال دو ہزار چار پانچ میں اڑتالیس کروڑ ستر لاکھ روپےسے بڑھ کر مالی سال دو ہزار چھ سات میں دو ارب بائیس کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ موجودہ مالی سال دو ہزار سات آٹھ میں دو ارب پچیس کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے۔

محکمہ کے افسران کے مطابق گیس اور تیل کی رائیلٹی کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے صوبائی حکومت کو اپنے مالی خسارہ پر کسی حد تک قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ سال بہ سال بڑھتی ہوئی آمدن اور تیل اور گیس کی پیداوار میں بتدریج اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت پُر امید ہے کہ آنے والے سالوں میں قدرتی وسائل کی پیداوار میں اضافہ کی بدولت اس کی سالانہ آمدن میں مذید اضافہ ہوگا۔

کوہاٹ میں صوبائی پولیس نے بھی مذہبی رجحان کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے

البتہ گُرگُری ، مکوڑی اور شکردرہ کے عوام نالاں ہیں کہ تیل اور گیس کی دریافت کے لئے شروع کیے گئے کاموں کے وقت ان کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے ان میں سے بیشتر پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔

شکر درہ کے ایک سماجی کارکن وزیر رحمٰن نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے معاشی امکانات سے ان کا علاقہ ایک دن ضرور دوبئی کی طرح ترقی یافتہ ہوجائے گا ’لیکن شاہد تب تک موجودہ نسل کے بہت سارے لوگ مر چکے ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ معاشی سرگرمیوں سے علاقے کے عوام کو تاحال کوئی خاطر خواہ معاشی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

اسی قسم کے خیالات کا اظہار گُرگُری سے کچھ ہی فاصلے پر واقع علاقہ ٹیری کے عوام نے بھی کیا۔ عثمان ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ عوام پر بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں کا کوئی مثبت اثر نہیں پڑا کیونکہ، ان کے بقول، ’سارے وسائل پر ایک مخصوص ٹولے نے قبضہ کیا ہوا ہے جس نے اسلام آباد سے بیٹھ کر قدرتی ذخائر سے مالا مال علاقوں کے عوام کو ان کے وسائل سے محروم رکھا ہوا ہے۔‘

شکردرہ کوہاٹ میں تیل اور گیس کی پیداوار سے صوبائی حکومت کو خاطر خواہ مالی فائدہ ہوا

عوام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ کرک میں بیرونی سرمایہ کار ’ایم او ایل گروپ‘ کو بھی سہولیاتِ زندگی کی عدم دستیابی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

ہنگری سے تعلق رکھنے والے ایم او ایل گروپ کی پاکستانی کمپنی ایم او ایل پاکستان آئل اینڈ گیس کمپنی کے مینیجنگ ڈائیریکٹر جانوس فیہر نے گُرگُری کے عوام کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی کی جتنی ذمہ داری بنتی تھی کمپنی نےاس سے زیادہ سماجی فلاح و بہبود کے کام کیے۔

جانوس نے کہا کہ ان کی کمپنی گُرگُری تا بانڈہ داؤد شاہ سڑک کی تعمیر کے لئے اسی فیصد رقم مہیا کر رہی ہے۔ ’سڑک کا یہ منصوبہ سماجی فلاح و بہبود کے اُن کاموں کے علاوہ ہیں جو کہ ہماری کمپنی نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی روح سے کرنے تھے۔‘

پینے کے پانی، صحت، تعلیم اور سڑکوں کے شعبوں کی ابتر صورتِحال کی بناء پر گُرگُری، ٹیری، مکوڑی اور شکر درہ کے عوام کے پُر زور احتجاج کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں کئی مرتبہ متاثر ہو چکی ہیں۔

ہم ڈیرہ بگٹی سٹڈی ٹور پر گئے تاکہ جان لیں کہ ان لوگوں کو کیا کیا مل رہا ہے:نائب ناظم

کاروباری اور دانشور حلقوں کے خیال میں عوامی احتجاج کی وجہ سے پڑنے والے منفی اثر کے علاوہ جنوبی اضلاع میں پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں کو علاقہ میں شدت پسندی اور نزدیک ہی واقعہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں طالبان کی کاروائیوں سے بھی ممکنہ خطرات درپیش ہیں۔

ضلع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے قبائلی علاقوں کے امور کے ماہر افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ بلاشبہ انتہا پسندی کا اثر کرک پر بھی پڑا ہے جس سے نمٹنےکے لئے ایک لمبے عرصے کی حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ کیونکہ اس وقت اتنی بڑی معاشی سرگرمی وقوع پذیر ہے لہذٰا اس پرلامحالہ امن و عامہ کی بری حالت کی وجہ سے اثر پڑ سکتا ہے۔‘

ماضی قریب کاحوالہ دیتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ ’ستم ظریفی یہ ہے کہ پہلے صوبہ سرحد کے شمالی علاقہ سوات میں سیاحت اور دوسری انڈسٹری انتہا پسندی کی لہر کی وجہ سے متاثر ہوئی اور اب اسی طرح کی صورتِحال جنوبی اضلاع میں بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔‘

مبصرین میں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ انتہا پسندی کے شکار علاقوں میں عوام کو سہولیاتِ زندگی مہیا کرکے اور معاشی بہتری کے ذریعے ہی شدت پسندی پر قابو پایا سکتا ہے۔

تنہائی کا شکار علاقہ
 اگر کرک میں نئے پیدا ہونے والے معاشی امکانات میں بدامنی کی وجہ سے کوئی رکاوٹ پڑتی ہے تو جنوبی اضلاع میں پہلے سے موجود پسماندگی بڑھ جائے گی اور اس سے شدت پسندی کو تقویت ملے گی۔اصل مسئلہ ان علاقوں کا یہ ہے کہ یہ تنہائی کا شکار ہیں
افراسیاب خٹک

تو کیاضلع کرک میں سرسبز پہاڑوں کے بیچ میں واقع گُرگُری اور مکوڑی اور ضلع کوہاٹ کے پر فضاء مقام شکر درہ میں اربوں روپے کے سرمائے سے لگائے گئے تیل اور گیس کے پیداواری یونٹوں سے پیدا ہونے والے نۓ معاشی مواقعوں کی بدولت صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں شدت پسندی کا خاتمہ ممکن ہوسکےگا؟

یہ سوال جب افراسیاب خٹک سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’ یہ ایک گرداب ہے۔ اگر بدامنی بڑھے گی تو اس کا اثر معیشت پر یقینی طور پر پڑے گا اور اس سے بےروزگاری بڑھے گی۔ وزیرستان میں سرکاری محکموں میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے کیونکہ وہاں غلبہ رکھنے والوں نے دھمکی دی تھی کہ جس نے سرکاری محکموں میں نوکری کی تو اس کے خاندان کے خلاف کاروائی کی جائے گی جس وجہ سے بہت سارے لوگ سرکاری نوکری کرنے سے گھبراتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر کرک میں نئے پیدا ہونے والے معاشی امکانات میں بدامنی کی وجہ سے کوئی رکاوٹ پڑتی ہے تو جنوبی اضلاع میں پہلے سے موجود پسماندگی بڑھ جائے گی اور اس سے شدت پسندی کو تقویت ملے گی۔’اصل مسئلہ ان علاقوں کا یہ ہے کہ یہ تنہائی کا شکار ہیں ان کو ملک کے دوسرے علاقوں سے جوڑنا چاہیے، سماجی اور معاشی طور پر۔‘

صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کے بعد صوبائی حکومت نے تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کے لئے شکردرہ کے مقام پر کام کرنے والے چینی انجنئیروں کی حفاظت کے لیے خصوصی بندوبست کیا ہے ۔

شکر درہ کے چندہ آئل اینڈ گیس فیلڈ کی حفاظت کے لیے ’او جی ڈی سی ایل‘ کے اپنے گارڈز کے علاوہ فوجی فاؤنڈیشن اور فرنٹیئر کانٹیبلری (ایف سی) کے گارڈز بھی تعینات ہیں۔ اسی طرح گُرگُری اور مکوڑی میں ایم او ایل پاکستان نے بھی ایف سی اور فرنٹیئیر کور فاؤنڈیشن سکیورٹی سروسز سےگارڈز لیے ہوئے ہیں۔

او جی ڈی سی ایل کے فیلڈ منیجر محمد عارف نے بتایا کہ تیل اور گیس دریافت کرنے کے لیے شکردرہ میں جاری ایک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجنئیروں کی آمدورفت اور حفاظت کے لیے ایف سی کو مقرر کیاگیا ہے۔

ضلع کرک میں کئی جگہوں پر تیل اور گیس کے مذید زخائر دریافت کرنے کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں

ایم او ایل پاکستان کے جانوس فیہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی کمپنی کی حکومتِ پاکستان سے بات چیت چل رہی ہے تاکہ گُرگُری اور مکوڑی کے آئل اینڈ گیس فیلڈ کو حساس تنصیبات ( کی پوائنٹ انسٹالیشن) کا درجہ دیا جائے جس کے بعد ان فیلڈز کی حفاظت کسی ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کی صورت میں اولین ترجیح تصور کی جائےگی۔

البتہ جب ممکنہ خطرات کے حوالے سے تیل اور گیس کے زخائر سے مالامال گُرگُری، مکوڑی اور شکردرہ کے عوام اور ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے پیداواری یونٹوں کے عملے سے پوچھا او بیشتر کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں شدت پسندی کےغلبے کاکوئی امکان نہیں۔

مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کیے گۓ انٹرویو کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان علاقوں کےعوام کی اس پُراعتمادی کی وجہ شاید لوگوں میں پاۓ جانے والے سیاسی شعور میں مضمر ہے۔

کچھ عرصہ پہلے گُرگُری کے رہائیشیوں پر مشتمل ایک ٹیم نے بلوچستان کے تیل اور گیس کی پیداوار کے حامل ضلع ڈیرہ بُگٹی کا دورہ کیا۔ دورہ کا مقصد بیان کرتے ہوۓ گُرگُری یونین کونسل کے نائب ناظم حُکم جان نے کہا کہ ’ آٹھ دس ماہ پہلے ہم ڈیرہ بگٹی سٹڈی ٹور پر گئے تاکہ جان لیں کہ ان لوگوں کو کیا کیا مل رہا ہے ناظم سے بات کی جنہوں نے بتایا کہ اٹھاسی سے جب ڈیرہ بگٹی کو گیس ملی تب سے مقامی آبادی کو مفت ترسیل کی جاتی ہے، پانی مل رہا ہے ، ہم گئے تھے کہ مثبت ذہنیت کو اپنائیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائیں۔‘

گُرگُری میں جس جگہ تیل اور گیس کا پیداواری یونٹ ہے اس کے قریب واقع پہاڑی کی دوسری جانب تقریباٌ پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر جنوبی وزیرستان واقع ہے۔

 سنوکر کلب کے مالک نے طالبان کی تنبیہ کے باوجود جب کاروبار ترک نہ کیا تو پھر وزیرستان کے مقامی طالبان نے آکراپنی نگرانی میں ویڈیو سینٹر بند کروایا
مقامی طالب

پیداواری یونٹ کی حفاظت کے حوالے سے نائب ناظم حکم جان نے کہا کہ انہوں نےحکومت اور ضلعی رابطہ افسر سے کہاہے کہ جنوبی وزیرستان کی جانب واقع اس پہاڑی پرحد بندی کی جائے یا فوج بٹھائی جائے۔

حکم جان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومت اور ڈی سی او سے کہا ہے کہ اس پہاڑی پر بارڈر لگائیں۔ ہمارے علاقے میں ان پیداواری یونٹوں کو کسی قسم کے خطرے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ ہمارے علاقے کے لوگوں کا یہ فیصلہ ہے کہ جو کمپنی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا ہم وہ آنکھ نکال دیں گے۔‘

البتہ ضلع کرک اور اس کی سیاسی تاریخ سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ تمام ضلع میں بالعموم اور گُرگُری میں بالخصوص شدت پسند اور انتہا پسند ذہن رکھنے والے لوگوں کی موجودگی کوئی مبہم بات نہیں۔

گُرگُری کے قریب واقع گاؤں کرغوبہ کے ایک مدرسہ میں پڑھنے والے ایک طالبعلم نے بی بی سی کو بتایا کہ اگست کے شروع میں گُرگُری میں واقع ویڈیو سینٹر اور سنوکر کلب کے مالک نے طالبان کی تنبیہ کے باوجود جب کاروبار ترک نہ کیا تو پھر وزیرستان کے مقامی طالبان نے آکراپنی نگرانی میں ویڈیو سینٹر بند کروایا۔

کئی مال بردار ٹرالروں کو لوٹا گیا جس کے بعد انہوں نےطالبان کے حق میں نعرے لکھنے شروع کر دیے

طالب نے بتایا کہ’مقامی مدرسوں کے طالبان نے ویڈیو سنٹر کے مالک کے خلاف خود کاروائی نہیں کی کیونکہ اس سے علاقہ کے خٹک قوم میں کشیدگی کا اندیشہ تھا جس سے بچنے کے لیےشمالی وزیرستان کے طالبان سے مدد لی گئی۔‘

اس حوالے سے نائب ناظم حکم جان نے پوچھنے پر پہلے تو اس قسم کے کسی واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا لیکن بعد میں کہا کہ ’علاقے کے لوگ خود بھی سنوکر سینٹر کے خلاف تھے کیونکہ وہاں مبیینہ طور پر جوا کھیلا جاتا تھا۔‘

فوجیشدت پسندی کا’جن‘
شدت پسندی قبائلی علاقے تک محدود نہیں
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
صدر جنرل پرویز مشرف (فائل فوٹو)وژن 2030
’قوم نہیں تو ترقی کا کوئی جواز نہیں‘
دعوے کھوکھلے؟
معاشی ترقی کے دعوؤں پرماہرین مشکوک ہیں
’مثبت تبدیلی‘
پشاور میں صوبائی حکومت کا ترقیاتی فورم
پیسے سے بھرا بیگاس سال کی معیشت
تجارتی خسارے کی وجہ سے قرض لینا ہو گا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد