ارمان صابر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | آٹے کے حالیہ بحران کا نشانہ غریب اور متوسط طبقات ہیں |
پاکستان میں کاشت کاروں نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کا خاطرخواہ ذخیرہ موجود ہے اور آٹے کا موجودہ بحران حکومت کی نااہلی کا نتیجہ ہے البتہ اگلے سال گندم کا پیداواری ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا اور ممکن ہے کہ حکومت کو پچیس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑے۔ ملک میں سب سے زیادہ یعنی اسّی فیصد گندم کی پیداوار صوبہ پنجاب میں ہوتی ہے جبکہ گندم کا دوسرا بڑا حصہ صوبہ سندھ میں کاشت کیا جاتا ہے۔ صوبہ پنجاب میں ایگری فورم پاکستان کے چئرمین محمد ابراہیم مغل نے منگل کو بی بی سی کو بتایا کہ اس سال ملک میں گندم کی کاشت دو لاکھ گیارہ ہزار ایکڑ رقبہ پر ہونا تھی لیکن یہ بمشکل دو لاکھ ایکڑ پر ہوئی ہے جس کی وجہ سے گندم کا دو کروڑ چالیس لاکھ ٹن کا پیداواری ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔ کچھ اسی طرح کے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے سندھ آبادگار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید نظامانی نے کہا کہ ’اگلے سال گندم کا غیرمعمولی بحران ہوگا اور مجھے خدشہ ہے کہ حکومت کو پچیس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑے گی‘۔ گندم کی کاشت کم رقبہ پر ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے محمد ابراہیم مغل نے بتایا کہ ’اس سال کسانوں نے گندم کی بوائی میں دلچسپی کم لی ہے کیونکہ حکومت نے اب تک اگلے سال کے لیے گندم کی خریداری کے نرخ کا اعلان نہیں کیا ہے، دوسری وجہ یہ کہ نہری پانی میں اس سال اٹھائیس سے تیس فیصد کمی رہی اور ٹیوب ویل بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث نہیں چلائے جاسکے، تیسری وجہ یہ کہ کھاد اس سال کم استعمال ہوئی ہے کیونکہ اس کے بھی ریٹ بڑھادیے گئے، اور اس سال ستر فیصد گندم کی بوائی دیر سے کی گئی تو یہ اسباب ہیں کہ شاید ہم دو کروڑ چالیس لاکھ ٹن گندم کا پیداواری ہدف حاصل نہ کر پائیں‘۔ موجودہ آٹے کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے ابراہیم مغل نے الزام لگایا کہ یہ حکومت کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ گندم کسانوں سے دس روپے تریسٹھ پیسے فی کلو کے حساب سے خریدی جس کی کل قیمت چھیالیس ارب روپے بنتی ہے اور اس کا آٹا چھیاسٹھ ارب روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے زیادہ منافع کے بعد بھی گندم کا بحران نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔  | | | خدشہ ہے کہ حکومت کو پچیس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑے گی |
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں گندم یا آٹے کی کمی نہیں بلکہ کمی ہے قانون کی بالادستی کی، یہاں تو جس کا بس چلتا ہے وہ ذخیرہ اندوزی کر کے زیادہ سے زیادہ منافع کما رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دس روپے تریسٹھ پیسے فی کلو گندم کا آٹا پچیس روپے کلو فروخت کرنے کا مطلب ہے کہ دگنے سے بھی زیادہ منافع کمایا جارہا ہے یعنی ایک جانب کسان کو لوٹا جارہا ہے سستی گندم خرید کر اور دوسری جانب صارف کو لوٹا جا رہا ہے مہنگا آٹا فروخت کر کے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ کسان سے گندم خرید کر دکانوں پر آٹے کے پہنچنے کے درمیان جو مڈل مین اور سرکاری اہلکار ہیں ان کو نکیل ڈالنے کی ضرورت ہے‘۔ عبدالمجید نظامانی نے کہا کہ حکومت اس بات کو تسلیم کرچکی ہے کہ ’گندم کو ذخیرہ کرلیا گیا ہے لیکن وہ ذخیرہ اندوزوں کے ناموں کو ظاہر نہیں کر رہی کیونکہ وہ لوگ بااثر ہیں اور ان میں سے کچھ اگلے انتخابات میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔’اگر یہی حالات رہے اور حکومت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے سے اجتناب برتتی رہی تو ملک میں لامحالہ آٹے کا بحران تو رہے گا‘۔ رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کی فلور ملوں پر تعیناتی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے وقتی طور پر خوف کی وجہ سے حالات میں کچھ بہتری آئے گی لیکن یہ اس بحران کا مستقل حل نہیں ہے۔ |