آٹے کے بحران میں پِس عام آدمی رہا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے سامنے ایک ٹرک کے پیچھے لوگوں کی لمبی قطار میں محی الدین نامی ایک سرکاری ملازم بھی موجود تھے۔ ماتھے پر شکن اور پریشانی میں انتظار کر رہے تھے کہ کب ان کی باری آئے گی اور انہیں بیس کلو آٹے کا ایک تھیلہ ملے گا۔ انہیں یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہ کہیں آج پھر ایک مرتبہ مایوس تو واپس نہیں لوٹنا پڑے گا۔ محی الدین نے بتایا کہ انھیں گزشتہ روز سرکاری سطح پر آٹا فروخت ہوتے ہوئے کہیں نظر نہیں آیا۔ اس لیے مایوس لوٹنا پڑا اور آج یہ سرکاری نرخ یعنی دو سو اسی روپے میں بیس کلو تھیلے کا آٹا مل رہا ہے۔ ’لیکن اتنی لمبی قطار کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ کہیں آج پھر گھر مایوس نہ لوٹنا پڑے۔‘ محی الدین نے بتایا کہ اب مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ انھیں ہر ماہ رشتہ داروں اور دوستوں سے قرضہ لینا پڑتا ہے۔ اگلے ماہ قرضہ اتارنے پر انہوں نے کہا کہ رشتہ دار ہیں وہ ہمارے ساتھ گزارا کرتے ہیں اور تنگ نہیں کرتے۔ ’لیکن میری کوشش ہوتی ہے کہ مہینے کے شروع دنوں میں کچھ نہ کچھ قرضہ اتار دوں۔‘ محی الدین نے بتایا کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور سفید پوش خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان کے لیے ان حالات میں گزارا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بازار میں آٹا وافر مقدار میں پڑا ہوا ہے دل تو اس لیے جلتا ہے کہ ان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ بازار سے اچھے معیار کا آٹا خرید سکیں۔ محمد عثمان ایک نجی دفتر میں ملازم ہیں اور دفتر سے چھٹی لینا مشکل ہے۔ والدہ دل کی مریضہ ہیں اور کچھ روز قبل وہ ایک بچی کے باپ بنے ہیں۔ بیوی کو ہسپتال ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے اورگھر کے لیے آٹا لانا ہے۔ انہی سوچوں میں گُم عثمان نے کہا ’زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔‘ اس قطار میں عبدالاحد نامی ایک سرکاری ملازم بھی موجود تھے۔ ان کی ماہانہ آمدنی چھ ہزار روپے تک ہے اور ان کے کنبے کی تعداد دس ہے جبکہ وہ اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ان کے گھر میں آٹا نہیں تھا۔ ’دفتر سے چھٹی کرکے بازاروں میں آٹا تلاش کرتا رہا جب نہیں ملا تو یوٹیلیٹی سٹور سے سستا ٹوٹا چاول خرید کر گھر لے گیا اور بچوں سے منت کی کہ یہی چاول کھا کر گزارا کریں۔ آٹا آج بھی نہیں ملا۔‘ ایک سکول میں استاد اختر جان کاکڑ اور ان کے بھائی کی ماہانہ آمدنی کوئی پندرہ ہزار کے لگ بھگ ہے اور گھر میں کھانے والے افراد کی تعداد بائیس ہے۔ اس گھرانے کا اب آٹے کی مد میں خرچہ ستر فیصد تک بڑھ گیا ہے جس وجہ سے ماہانہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ یہ سب لوگ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے رہائشی ہیں اور انھیں بہتر سہولیات دستیاب ہیں۔ ذرا ان کا سوچیے جو دورافتادہ علاقوں کے لوگوں کا جہاں نہ تو ان کی آواز کوئی سنتا ہے اور نہ ہی آٹا دستیاب ہوتا ہے۔ تربت، پنجگور کے علاوہ خاران، آواران، تفتان اور ادھر نوشکی، قلعہ سیف اللہ کے دور افتادہ علاقے جہاں نہ آٹا ہے نہ بجلی اور نہ ہی گیس۔ ژوب میں ایک اعلان کیا گیا کہ آج آٹا ملے گا اور آٹھ سے دس ہزار لوگ خوشی خوشی ایک میدان میں جمع ہو گئے کہ آج سرکاری نرخ پر آٹا ملے گا۔ لیکن آٹا نہیں ملا تو لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ کوئٹہ شہر میں میزان چوک پر کریانہ مرچنٹ کی ایک بڑی دکان ہے جہاں شہر کے بیشتر لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں۔ اس دکان کے ایک مالک اعجاز احمد نے بتایا کہ دو ماہ سے ایک عام آدمی کا بل تقریباً اسی فیصد سے نوے فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ ایک عام آدمی جو پہلے کریانہ کی دکان سے ماہانہ بارہ سو سے تیرہ سو روپے کی خریداری کرتا تھا اب انھیں اشیاء کی قیمت تئیس سو سے پچیس سو روپے تک ہو گئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس لیے لوگوں نے اپنی ضروریات میں کمی کر دی ہے۔ ’پہلے اگر دو صابن لے جاتے تھے تو اب ایک صابن لے رہے ہیں لیکن دال، چینی اور آٹے جیسی اشیاء خورد و نوش کی میں تو کمی نہیں کی جا سکتی کیونکہ بچوں کا پیٹ تو بھرنا ہوتا ہے۔‘ اعجاز احمد نے کہا کہ ابھی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ’گھی کو ہی لیجیے۔ نئے نرخ کے مطابق پانچ کلو کا ڈبہ پانچ سو دس روپے کی بجائے اب پانچ سو اسی روپے میں فروخت ہوگا۔‘ انھوں نے کہا کہ دو ماہ پہلے اس گھی کی قیمت ساڑھے تین سو روپے تک تھی اور اب کہا جا رہا ہے کہ آئندہ پھر یہ نرخ چھ سو روپے سے زیادہ ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں تو ہزاروں ٹن گندم اور آٹا افغانستان لے جایا جا رہا ہے اور یہ حکومت ہے کنٹرول کر سکتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے اور سرکاری سطح پر آٹا ہر جگہ فروخت کیا جا رہا ہے۔
سیکرٹری خوراک اعظم بلوچ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ سرکاری آٹے کی فروخت کے مراکز بڑھا دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل وفاق کی جانب سے بلوچستان کا گندم کا کوٹہ کم ہے۔ یہ کوٹہ اڑتیس ہزار میٹرک ٹن ہے جبکہ صوبے کی اپنی ضرورت پچھہتر ہزار ٹن سے زیادہ ہے اس لیے صوبائی حکومت کو دیگر صوبوں سے گندم خریدنی پڑتی ہے۔ صوبائی حکومت نے اب آٹے کی ترسیل کا کام بھی فرنٹییر کور یعنی نیم فوجی دستے پر ڈال دیا ہے اور اگلے روز سے ہی آٹے کے ٹرک نظر آنے لگے ہیں۔ حیرانگی کی بات ہے کہ نہ تو کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی باہر سے کوئی گندم منگوائی گئی لیکن کئی مقامات پر سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ یاد رہے کہ فرنٹییر کور کی اصل ذمہ داری بلوچستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں کی حفاظت ہے اور سمگلنگ کی روک تھام لیکن اطلاعات کے مطابق کڑی نگرانی کے باوجود اب تک آٹا سمگل ہو رہا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||