آٹے کے بحران کا ذمہ دار کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بعض زرعی ماہرین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار اور گندم کے وافر ذخائر موجود ہونے کے باوجود شہری علاقے آٹے کو ترس رہےہیں۔ پاکستان ان دنوں آٹے کے ایک ایسے عجیب بحران کا شکار ہے جس میں آٹے کی فراہمی کے تمام فریق ایک دوسرے کو قلت کا ذمہ دار قرار تو دے رہے ہیں لیکن نتیجے میں مارکیٹ میں آٹا دستیاب ہے نہ اس کی بڑھتی ہوئی قیمت رک پا رہی ہے۔ دکاندار کہتے ہیں کہ انہیں تھوک کے بیوپاری یعنی ڈیلرسے آٹا مہنگا اور کم ملتا ہے، ڈیلر کہتا ہے کہ فلور ملز کم سپلائی دے رہی ہیں اور گندم کو سٹاک کرکے بیٹھی ہیں۔ فلور ملز مالکان کہتے ہیں کہ انہیں گندم اور بجلی نہیں مل رہی وہ کیا کریں؟ حکومت کہتی ہے کہ فلور ملوں کو روزانہ مطلوبہ کوٹہ فراہم کردیاجاتا ہے اور دیگر شعبوں کو اندھیرے میں ڈبو کر انہیں بجلی دی جار ہی ہے۔ صوبہ پنجاب کہتا ہے کہ سب سے زیادہ گندم پیدا کرکے بھی اس کے شہریوں کو روٹی نہیں ملتی، باقی صوبے کہتے ہیں کہ سارا پانی پی کر بھی پنجاب کا پیٹ نہیں بھرتا اور بیشتر وسائل ہڑپ کرجانے کے باوجود گندم کی سپلائی تک نہیں دے سکتا۔ سرکاری اعداد و شمارکے مطابق پنجاب میں اس برس ایک کروڑ پچاسی لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی جو پچھلے برس کے مقابلے میں قریباً تیرہ لاکھ ٹن زیادہ تھی۔
پنجاب کا کسان کہتا ہے کہ زیادہ فصل پیدا کر کے اسے تو نقصان ہوگیا کیونکہ مارکیٹ میں گندم کی سپلائی زیادہ اور طلب کم تھی اس لیے اس کی قیمت صحیح نہیں لگ سکی لیکن دوسری طرف اسی بحران کےدوران روٹی کی قیمت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی۔ کسان بھی مارا گیا اور عام شہری بھی آخر یہ اضافہ کس کی جیب میں گیا ہے؟ پہلے کہا گیا کہ گندم کی فصل اچھی ہوئی تھی دس فیصد برآمد کردی گئی پھر کہا کہ بحران پیدا ہوا تھا اتنی ہی واپس درآمد کرلی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر درآمد برآمد برابر ہوگئی ہے تو پھر بحران کیوں ہے؟ اور مزید سوال یہ ہے کہ گندم کی برآمد کا فیصلہ کرنے والا حاکم کون تھا اور اسے کیا سزا دی گئی کیونکہ اس کی ایک غلطی لاکھوں افراد کو بھوک اور افلاس میں مبتلا کر گئی ہے۔ پاکستان ایگری فورم کے سربراہ ابراہیم مغل نے کہا کہ نئی فصل آنے میں صرف ڈھائی تین مہینے باقی ہیں اور چھ کروڑ آبادی کی ضرورت اٹھارہ لاکھ ٹن گندم ہے۔ ان کے بقول سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گندم کی خریداری کے ادارے پاسکو اور محکمہ خوراک کے کنٹرول میں درآمدی گندم سمیت اٹھارہ لاکھ ٹن سے زائد کے ذخائر موجود ہیں جبکہ نجی گوداموں کا کئی لاکھ ٹن مال اس کے علاوہ ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سال کی دو کروڑ تینتیس لاکھ ٹن کی ملکی پیدوار میں سے مجموعی طور پر چوالیس لاکھ ٹن گندم سرکاری طور خریدی گئی اور باقی کے لیے کسانوں کو نجی خریداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ پنجاب کی خریداری تو صرف چھبیس لاکھ ٹن رہی۔ان کہنا ہے کہ اگر مناسب خریداری ہوتی تو یہ بحران کبھی پیدا نہ ہوتا۔ اب جبکہ پوری قوم آٹے کے تاریخی بحران کا شکار ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا معمول سے ہٹ کر کم خریداری ایک مصنوعی قلت اورگرانی کی سازش کی تیاری تو نہیں تھی؟ مسلم لیگ قاف کی پنجاب حکومت کے سابق وزیر خوراک حسین جہانیاں گردیزی کہتے ہیں کہ پاکستان پر گندم کی بین الاقوامی گرانی کا اثر ہے ان کے بقول گندم کی بین الاقوامی قیمت پونے دو سو ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر پانچ سوڈالر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ہمسایہ ملک کو ہونے والی آٹےگندم کی سمگلنگ اس قلت اورگرانی کا سبب ہے۔ اعداد و شمار کے حوالے سے ان کی بات میں بھی وزن ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاک بھارت سرحد پر ایک سرے سے لیکر دوسرے کونے تک ایسی خار دار تار لگی ہے اور جن میں کبھی کبھار کرنٹ بھی دوڑ جاتا ہے اور جہاں ہر سال درجن بھر افراد کو محض اسے لیے گولیوں سے اڑا دیا جاتا ہے کہ انہوں نے سرحد کےاس پار غلطی سے یا جان بوجھ کر قدم رکھنے کی کوشش کی تھی۔ ایسی سرحد کے اس پار ہزاروں یا لاکھوں ٹن گندم کی بوریاں اس طرح پہنچانا کہ رینجرز کے علم میں نہ آسکے، ایک بڑا سوال ہے اور پھر یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر پاکستان رینجرز ،سکیورٹی کے اتنے انتظامات کے باوجود ہندوستان کو سمگلنگ نہیں روک سکی تو پھر اسی رینجرز کو آٹے کی پاکستان میں تقسیم کی ذمہ داری کیوں سونپ دی گئی؟ حسین جہانیاں گردیزی نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں گندم کا اچھا ریٹ ملتا ہے اس لیے گندم وہاں سپلائی ہورہی ہے۔ اس کے برعکس حالات تو یہ بتاتے ہیں کہ افغانستان سے مہنگا آٹا تو سرحد اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں ہے اس کا علم یقیناً پنجاب کے گندم ذخیرہ اندوزوں کو بھی ہوگا۔ پاکستان میں گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی بھی نہیں ہے۔ اگر نفع کمانا ہے مقصود ہے تو سمگلنگ کا الزام سر لیے بغیر انہی دو صوبوں میں گندم بھجوا کر محفوظ منافع کیوں نہیں کما لیا جاتا؟ اتنے ڈھیر سارے سوالات کے جواب تلاش کرنے کی بجائے اگر صرف یہ اعداد و شمار اکٹھے کرلیے جائیں کہ پاکستان خاص طور پر پنجاب میں فلور مل مالکان،گندم کے نجی خریدار اور فروخت کنندہ کون ہیں اور ان کا موجودہ اور سابق حکمرانوں سے کیا تعلق ہے، تو اتنے گنجلک معاملے کا سادہ جواب خود بخود سامنے آ جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||