ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ معطل شدہ ججوں کی بحالی عدلیہ میں اصلاحات کے ایک پیکج کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ دبئی میں ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ معطل شدہ ججوں کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ کے موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے۔ آصف علی زرداری نے ان خدشات کو رد کر دیا کہ ججوں کو تیس دن کے اندر بحال نہ کیئے جانے کی صورت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے گی۔ آئینی پیکج کی تیاری اور اس کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بارے میں آصف علی زرداری نے وقت کا تعین کرنے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اس سارے عمل میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔ دریں اثناء سوموار کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان ججوں کی بحالی کے مسئلہ پر دبئی میں مذاکرات کے دو دور ہوئے جو کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ ان مذاکرات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت آصف علی زرداری نے کی جبکہ مسلم لیگ نون کے وفد کی سربراہی میاں شہباز شریف کر رہے تھے۔ ان مذاکرات کے اختتام پر کوئی اعلان سامنے نہیں آ سکا۔ آصف علی زرداری نے اپنے ٹی انٹرویو میں اس آئینی پیکج کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیکج وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بنا رہے ہیں اور اس میں متبادل تجاویز رکھی گئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور صدر کے عہدوں کی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کی معیاد بھی مقرر ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس مدت کا تعین کرنے سے انکار کر دیا البتہ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اس پیکج میں ججوں کی مدتِ ملازمت بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس آئینی پیکج میں آئین کی شق اٹھاون ٹو بی کو بھی ختم کرنے کی ترمیم شامل ہو سکتی ہے۔ ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی طرف سے تیس دن کی مہلت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایسی مہلت کو نہیں مانتے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرحوم چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے بارے میں اپنا عزم دھراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قتل ایک سازش کا حصہ ہے اور جس کا مقصد پاکستان کی ’بالکانزیشن‘ کرنا یا پاکستان کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ انہوں نے ان خدشات کو رد کردیا کہ اقوام متحدہ کو تحقیقات میں ملوث کرنے سے پاکستان کے جوہری پروگرام کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا وزیر اعظم بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں آنا چاہتے ہیں اور انہوں نے چار سیٹوں سے الیکشن لڑنے کے لیے پارٹی کو ٹکٹ دینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس سے پہلے بھی وزیر اعظم کے عہدے کی پیش کش ہو چکی ہے اور اب وہ خود وزیر اعظم بن سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔ صدر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سوال سے زیادہ اہم مسئلے مہنگائی، بے روز گاری، بجلی کے بحران اور آٹے کی قلت کی صورت میں پاکستان کو لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ ایک غیر اہم بات ہے کہ ایوان صدر میں کون بیٹھا ہے یا ایوان صدر میں کس کو بھیجا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں گرفتار گزشتہ حکومت نے کیا تھا اور یہ معاملہ انہوں نے ایوان صدر پر چھوڑا ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||