BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 April, 2008, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تفتیش کے لیے اقوام متحدہ سے رابط جلد

قتل کے فوراً بعد پیپلز پارٹی نے تفتیش اقوام متحدہ سے کرانے کا مطالبہ کیا تھا
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم بینظر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کے طریقہ کار پر مشاورت ہورہی ہے اور اس بارے میں بہت جلد اقوام متحد سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا جائے گا۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے چیمبر میں بی بی سی کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’قتل کی تحقیقات کیسے ہونی چاہیے اور اس کا دائرہ کار کیا ہو، اس بارے میں مشاورت ہور رہی ہے اور ڈرافٹ تیار کیا جارہا ہے جو کابینہ کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ وزارت خارجہ یا اس کا کوئی افسر اقوام متحدہ سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی مخالفت کر رہا ہے یا کسی کو کوئی تحفظات ہیں۔

 دوران تفتیش بہت سارے راز کھلیں گے اور پاکستان کی دشمن قوتیں اگر تفتیش سے حاصل ہونے والی معلومات کو کوئی بھی رنگ دینا چاہیں تو دے سکتی ہی
قانونی ماہر

وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کابینہ کا اجلاس آئندہ بدھ کو منعقد ہوگا جس میں امکان ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ سے متعلق قرار داد کی روشنی میں ڈرافٹ کی منظوری دی جائے گی۔

ادھر دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کابینہ کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم اس بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو درخواست پیش کریں گے۔

بینظیر بھٹو کے قتل پر ملک بھر میں تشدد پھوٹ پڑا

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اس نوعیت کی مدد کے لیے عالمی ادارے سے رجوع کر رہا ہے۔

بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کے لیے قائم اقوام متحدہ کے کمیش کی طرز پر بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات ہوئی تو بہت سارے راز افشاں ہوں گے اور بات بینظیر بھٹو کے قاتلوں سے بہت دور نکل جائے گی۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہر ایڈوکیٹ احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ کے لیے جو کمیشن بناتا ہے اس کا دائرہ کار اور اختیارات کیا طے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رفیق حریری کمیشن کو کسی بھی شخص کو شامل تفتیش کرنے، مشکوک اکاؤنٹ اور املاک منجمند کرنے، ملک بھر میں ریاستی اور نجی اداروں اور افراد سے پوچھ گچھ کی اجازت تھی۔ ان کے بقول اگر وہ اختیارات بینظیر بھٹو کمیشن کو بھی ملے تو جوہری پاکستان عدم استحکام سے دوچار بھی ہوسکتا ہے۔

 تحقیقات کا ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے جس سے معاملات صرف قتل کی تحقیقات تک محدود رہیں اور پاکستان پر کسی قسم کی آنچ نہ آئے
وزیر خارجہ

’دوران تفتیش بہت سارے راز کھلیں گے اور پاکستان کی دشمن قوتیں اگر تفتیش سے حاصل ہونے والی معلومات کو کوئی بھی رنگ دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں۔‘

احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان حکومت چاہے تو صرف اقوام متحدہ سے تفتیشی ماہرین کی خدمات حاصل کرے اور وہ اقوام متحدہ کے بجائے صرف پاکستان حکومت کو رپورٹ کرنے کے پابند ہوں۔

اس بات کا احساس حکومت پاکستان کو بھی ہے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اقوام متحدہ سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔ تحقیقات کا ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے جس سے معاملات صرف قتل کی تحقیقات تک محدود رہیں اور پاکستان پر کسی قسم کی آنچ نہ آئے۔

کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن بنانے کے لیے سیکریٹری جنرل معاملہ سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی میں بھی پیش کرسکتے ہیں اور کمیشن سے تعاون کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو پابند کیا جاسکتا ہے۔

ایسے میں بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں جن لوگوں کی خود نشاندہی کی تھی، ان اعلیٰ ترین عہدیداروں سمیت سیکورٹی افسران اور پاکستان حکومت جسے بھی تفتیش کے لیے تجویز کرے، ان سے پوچھ گچھ ہوسکتی ہے۔

بینظیر بھٹو اصل سوال یہ ہے
قاتل کون ہیں اور اس قتل کا فائدہ کس کو پہنچا؟
تحقیقات کون کرے
بینظیر کے قتل کی تحقیقات کے لیے دباؤ
بینظیر بھٹوبینظیرکی ہلاکت
اقوام متحدہ تفتیش کرے یا نہیں
بینظیر کا وعدہ
قبر بھی بہت سے لوگوں کے وسیلہ روزگار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد