2007 ملکی تاریخ کا بدترین سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے سن دو ہزار سات کو ملک کی تاریخ کا بدترین سال قرار دیا ہے جس میں سپریم کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت پچپن ججوں کو معزول کیا گیا، ایمرجنسی کا نفاذ ہوا اور بارہ مئی، اٹھارہ اکتوبر اور ستائیس دسمبر جیسے واقعات رونما ہوئے۔ انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے پیر کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی۔ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینطیر بھٹو کے سرورق تصویر کے ساتھ 236 صفحوں پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال ملک میں ریاست آدھی زندہ تھی، جس نے فطری طور پر اس کی قابلیت کو محدود کردیا۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں تلخ تجربات کی ابتدا مارچ میں ہوئی جب اسٹیبلشمنٹ نے چیف جسٹس کو برطرف کیا اور ان کی توہین کرنے کی کوشش کی، جولائی میں ان کی بحالی نے ریاست کو ایک موقع فراہم کیا کہ ملک کو آئینی راستے پر لایا جائے مگر صدر مشرف کی جانب سے فوجی وردی چھوڑے بغیر دوبارہ صدر بننے کی خواہش نے بحران کو شدید کردیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ نے عام لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں پہنچایا اس کے برعکس شدت پسندوں کی پہنچ روایتی طور پرامن وادی سوات تک ہوگئی۔ دو ہزار سات میں خودکش بم حملوں میں اضافہ ہوا، پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور وزیراعظم کی امیدوار بینظیر بھٹو اس کا شکار ہوئیں۔ ان کے قتل میں ملوث ملزم کی کوئی شناخت نہیں ہوسکی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کے انکار سے شک وشبہات میں مزید اضافہ ہوا۔
صدر مشرف نے بارہ مئی واقعات کی تحقیقات کرانے سے انکار کردیا، جس میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے، ان واقعات میں صدر پرویز مشرف کی حمایتی جماعت پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پاکستان کی جیلوں میں چالیس ہزار 825 کی گنجائش میں پچانوے ہزار سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا، جن میں سے 67 فیصد مقدمے کی سماعت کے منتظر ہیں۔ 134 ملزمان کو پھانسی دی گئی، 309 کو سزائے موت سنائی گئی سات ہزار پر اس حوالے سے مقدمات زیرسماعت ہیں۔ سپریم کورٹ میں گمشدہ افراد کی فہرست 400 ناموں سے بڑہ گئی جبکہ تین نومبر کے بعد ان کی سماعت رک گئی، ایچ آرسی پی کی فہرست میں شامل 198 لاپتہ افراد کا پتہ لگایا۔ مشرف کی جانب سے نافذ کیے گئے 134 آرڈیننس کے مقابلے میں قومی اسمبلی نے صرف 51 بل پاس کیے۔ گزشتہ سال فرقہ وارانہ فسادات نے 580 افراد کی جان لے لی، جبکہ 1120 افراد زخمی ہوگئے۔ شدت پسندصوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں پھیل گئے اور کئی شہروں اور دیہاتوں میں خود ساختہ نظام کا نفاذ کیا۔انہوں نے لڑکیوں کے اسکولوں اور سی ڈی کی دکانوں کو نشانہ بنایا، مذہبی اقلیتوں کو مذہب کی تبدیلی یا علاقے چھوڑنے کے لیے ڈرایا دھمکایا۔
اسی سال سات صحافی قتل 73 زخمی ہوئے جن میں سے اکثر پولیس کے ہاتھوں زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے 250 صحافیوں کو حکومت مخالف مظاہرے کرتے ہوئےگرفتار کیا۔ انسانی حقوق کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار سات میں خواتین پر ظلم و زیادتی کی بے پناہ شکایتیں موصول ہوئیں۔ ایچ آر سی پی کے ریکارڈ کے مطابق بارہ سو خواتین قتل ہوئیں جن میں 636 کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ 377 سے جنسی زیادتی ہوئی اور 755 کو ہراساں کیا گیا۔ بینظیر بھٹو اور صوبائی وزیر ظلِ ہما کے قتل نے سال دو ہزار سات کو خواتین سیاستدانوں کے حوالے سے ہولناک سال بنادیا۔ انسانی حقو کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے بتایا کہ کراچی میں نو اپریل کو پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے بھی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جاسکیں۔ اس سے پہلے بھی ایچ آر سی پی ایسے واقعات کی تحقیقات کرتی رہی ہے جن میں بارہ مئی کا واقعہ بھی شامل ہے۔ | اسی بارے میں عالمی ادارے جائزہ لیں: عاصمہ10 January, 2006 | پاکستان 29 خواتین نوبل پرائز کے لیے نامزد 02 July, 2005 | پاکستان کاہان: ’بلوچ سہمے ہوئے ہیں‘27 December, 2005 | پاکستان میراتھن: دوڑ کی بجائےگرفتاریاں 14 May, 2005 | پاکستان ایچ آر سی پی کی پولیس پر تنقید 15 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||