BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 March, 2008, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آصف زرداری: بادشاہ یا بادشاہ گر

آصف زرداری
آصف بظاہر پارٹی میں یا پارٹی سے باہر کسی پر بھروسہ نہیں کرتے
پاکستان میں عام انتخابات ہوئے ایک ماہ کے بعد بھی کوئی وزیر اعظم نہیں ہے۔ وزارت عظمٰی کا فیصلہ کرنے والے شخص سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری ہیں جو کہ بینظیر کی ہلاکت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں۔

اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد آصف علی زرداری پاکستان میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ والے سیاستدان بن کر ابھرے ہیں۔

اسلام آباد کی ایک گلی عام روایات سے ہٹ کر دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس کے آگے بہت بڑے کنکریٹ کے بلاک رکھے گئے ہیں۔

اس لیے بھی منفرد ہے کہ کالی وردیوں میں بہت سے افراد جن کی قمیضوں پر بینظیر کا لفظ درج ہے، انتہائی مستعدی سے گلی میں داخل ہونے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

گلی کے آخری سرے پر بیلوں سے ڈھکے ایک گھر کے باہر درجنوں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے ڈیرہ جمایا ہوا ہے، ادھر ادھر ٹہلتے رہتے ہیں یا سگریٹ پھونکتے رہتے ہیں۔ ان کا زیادہ تر وقت کسی آنے والے یا صرف بڑے گیٹ کے پیچھے سے کسی خبر کے انتظار میں گذرتا ہے، طویل انتظار اور عدم دستیاب سہولیات کے باوجود جس کی بعض شکایت بھی کرتے رہتے ہیں۔

کیوں نہ ہو، آخرکار وہ ایک ایسے شخص کے بارے میں رپورٹنگ کر رہے ہیں جو اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے بعد پاکستان کا انتہائی طاقتور سیاستدان بن کر سامنے آیا ہے۔

اور ان سب کے ذہنوں میں صرف ایک سوال ہے کہ کیا آصف علی زرداری بادشاہ گر رہیں گے یا بادشاہ بننے کا لالچ انہیں گھیر لے گا۔

متاثرکن شخصیت

کچھ مزید سیکورٹی جانچ پڑتال کے بعد گھر کے اندر تک میری رہنمائی کی گئی اور ایک چھوٹے کمرے میں لے جایا گیا جہاں بڑا پاکستانی پرچم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈوں نے آصف زرداری کے مخصوص صوفے کو گھیر رکھا تھا۔

وہ (آصف زرداری) پھرتی سے مگر میانہ رو چال کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے اور مجھ سے مختصر لیکن بھرپور مصافحہ کیا۔

ان کی متاثر کن شخصیت جس قدر مصافحہ سے عیاں تھی اتنی ہی ان کی گفتگو میں ظاہر ہوئی۔ وہ انتہائی حاضر جواب، مختصر کاٹ دار جملے چھوڑنے کے لیے بے تاب اور اپنے خیالات کے اظہار میں انتہائی محتاط واقع ہوئے۔

آپ کی جماعت سے وزیراعظم کون ہے، اس قدر تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟

’کیا آپ کبھی ایسی فلم دیکھنے جائیں گے جہاں ٹکٹوں کی کھڑکی پر کوئی قطار نہ ہو‘ انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔

’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ شو سے لطف اندوز نہیں ہو رہے‘ انہوں نے باہر موجود درجنوں صحافیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

اگلے نصف گھنٹے تک وہ اسی موضوع پر بات کرتے رہے۔ مجھے حیرت ہے کہ اس میں کتنا شو کا حصہ تھا اور کتنی حقیقت تھی۔

سازشیں اور تلخیاں

کچھ دیر میں ہی کوئی شخص محسوس کر لیتا ہے کہ زرداری صاحب نے اپنے سامنے بولے جانے والے ہر لفظ میں سازش کی بو سونگھنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ وہ بظاہر پارٹی میں یا پارٹی سے باہر کسی پر بھروسہ نہیں کرتے۔

بہت سے ایسے جملے ہیں جو اس تاثر کو تقویت بخشتے ہیں۔ ’مجھے اکثریت سے محروم کیا گیا‘ اور ’انہوں نے پہلے ہی میڈیا کو ہمارے پیچھے لگا دیا ہے۔‘ انہوں سے زرداری کی مراد پاکستان میں عسکری قیادت، انٹیلیجنس ایجنسیوں، جہادیوں اور کسی بھی ایسی چیز جو عمومی اصطلاح ’اسٹیبلشمنٹ‘ کی چھتری تلے پروان چڑھی ہو، سے ہے۔

بظاہر اس کے اندر بہت زیادہ تلخی بھی چھپی ہوئی ہے۔

کیا وہ سمجھتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی موت کے بعد ملک بھر میں پیدا ہونے والے غم و اندوہ کے بعد، ’وہ‘ سیاستدانوں کے بارے میں نئے سرے سے رائے قائم کر رہے ہیں۔

بینظیر ریلی
’میں نے بی بی کی راولپنڈی ریلی کے لیے ایک سو ستر محافظ بھیجے تھے۔ میں جاننا چاہوں گا کہ ان میں سے نوے کو کس نے واپس بھجوایا۔‘

’ ندامت کا شائبہ تک نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ کی طرح بے حس اور بے رحم رہیں گے‘ انہوں نے کہا۔

یہ ساری کی ساری تلخی ’ان‘ پر مرکوز نہیں ہے۔

’میں نے بی بی کی راولپنڈی ریلی کے لیے ایک سو ستر محافظ بھیجے تھے‘ انہوں نے بلاجھجک کہا۔ ’میں جاننا چاہوں گا کہ ان میں سے نوے کو کس نے واپس بھجوایا۔‘

واضح ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کی موت سے متعلق کسی سوال کو باقی رہنے نہیں دینا چاہتے۔

آئندہ وزیراعظم

ایسا شخص جس کے فیصلے ایک سو ساٹھ ملین افراد پر مشتمل عوام پر بھرپور طور پر اثرات مرتب کریں گے، کیا ان خیالات سے پریشان نہیں ہوگا۔

اس سے قبل کہ وہ جواب دیتے، جنوبی پنجاب سے ایک پارٹی رہنما یوسف رضا گیلانی بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔

یوسف رضا گیلانی وزارت عظمٰی کے لیے نمایاں امیدواروں میں سے ایک ہیں اور مجھے حیرت ہوئی کہ انہیں اچانک کیوں بلایا گیا۔ شاید اشارہ ہو کہ وہ پاکستان کے آئندہ وزیراعظم ہیں؟

ہماری گفتگو کا رخ کابینہ کی تشکیل کی جانب مڑ گیا۔

’لوگ بہت زیادہ ہیں اور اتنا نہیں کہ تقسیم کیا جا سکے۔‘ انہوں نے آہ بھری۔

تو کیوں نہیں کچھ مختلف کر لیا جاتا جیسے چھوٹی، مختصر اور مستعد کابینہ؟

صدر مشرف
’آپ کسے اپنے صدر کے طور پر دیکھنا پسند کریں گے۔ ایک ایسے شخص کو جسے پارلیمنٹ کی اکثریت نے منتخب کیا ہو یا اس شخص کو جو کہ اپنا عہدہ بچانے کے لیے کسی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔‘

’چھوٹی، مختصر اور مستعد‘ انہوں نے میرے الفاظ دہرائے، بے تکلفی سے میرے قریب ہو گئے۔ ’میں ایسا کرتا اگر میری دو تہائی اکثریت سے مجھے محروم نہ کیا ہوتا۔‘

آئندہ اہداف

زرداری صاحب قائل ہیں کہ اگر انہوں نے اپنا مینڈیٹ سیاستدانوں کو طاقتور بنانے کے لیے استعمال نہ کیا تو یہ بے فائدہ ہوگا اور وہ خوش دکھائی دیتے ہیں کہ سابق وزیراعظم اور ان کے اتحادی نواز شریف ان کے ہم خیال ہیں۔

دونوں کے درمیان ماضی میں انتہائی شدید سیاسی دشمنی پائی جاتی تھی، کیا اب وہ ان پر اعتماد کر سکتے ہیں؟

’انہوں نے میرے لیے کوئی ایک بھی ایسا جواز نہیں چھوڑا کہ میں ان پر اعتماد نہ کروں‘ زرداری صاحب نے بھرپور اعتماد سے کہا۔ ’میں کیوں نہ ان پر اعتماد کروں۔‘

صدر مشرف کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے سوچا ہے کہ کون ان کی جگہ لے گا؟

’آپ کسے اپنے صدر کے طور پر دیکھنا پسند کریں گے‘، انہوں نے جواباً سوال کیا۔ ’ایک ایسے شخص کو جسے پارلیمنٹ کی اکثریت نے منتخب کیا ہو یا اس شخص کو جو کہ اپنا عہدہ بچانے کے لیے کسی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔‘

بہت سے مبہم بیانات ہو چکے ہیں اور یہ بیانات جان بوجھ کر دیے گئے ہیں۔ کیا اس قسم کے مبہم بیانات سے جماعت پر دباؤ بڑھتا نہیں جا رہا؟ آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کے پرانے اراکین جن کو جماعت میں انکل کہا جاتا ہے کے حوالے سے کہا ’پولٹبیورو کو توڑنا ہی پڑے گا۔ اس پولٹبیورو کے ساتھ ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔‘

آصف زرداری کے گھر سے رخصت ہونے پر میری معلومات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا یا شائد وہ اس میٹنگ سے یہی چاہتے تھے۔ زرداری شاطر، ہوشیار، سخت جان اور گیارہ سال کی جیل اور بدعنوانی کے الزامات کے سامنے سے وہ ایک سلجھے ہوئے سیاستدان ثابت ہوئے ہیں۔

وہ طاقت کے ساتھ احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں اور اس قسم کے شخص سے نہ تو پاکستان فوج اور نہ ہی امریکی پالیسی بنانے والوں کو سامنا کرنا پڑا ہے۔ شائد اسی خوبی کو عوام پرکشش پاتی ہے چاہے وہ بادشاہ گر بنیں یا بادشاہ بننے کو ترجیح دیں۔

 آصف زرداری اور مخدوم امین فہیمبات نکلے گی تو۔۔
زرداری اور مخدوم کے حامی کارکن آمنے سامنے
آصف زرداری چار مقدمات اور
آصف زرداری پر ابھی چار مقدمات اور ہیں
امین فہیمامین فہیم کا ’جرم‘
’جو کیا پارٹی قیادت کو اعتماد میں لے کر کیا‘
آصف علی زرداری (فائل فوٹو)شراکت اقتدارفارمولہ
پارلیمانی پارٹیوں نےاختیار شریک چیئرمین کودیدیا
آصف زرداری’ان پر سب کی نظر‘
انتخابی مہم آصف زرداری کے لیے بڑا چیلنج
زرداریزرداری میدان میں
ہم بھٹو کے فرزند ہیں، ڈرتے نہیں: آصف زرداری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد