BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 February, 2008, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ورکنگ ریلیشن شپ، تعین پارلیمان کرے گی‘

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر
پارلیمان کے اختیارات میں لائی گئی کمی کو ختم کرنا چاہتے ہیں:پی پی پی
پیپلز پارٹی نے شریک چئرمین آصف علی زرداری سے منسوب اس بیان پر کہ وہ صدر کے ساتھ ’ورکنگ ریلیشن شپ‘ کے خواہاں ہیں، وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے ساتھ تعلقات کا تعین نئی پارلیمان کرے گی۔

آصف علی زرداری نے امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ میں سوموار کو شائع ہونے والے انٹرویو میں کہا تھا کہ مواخذے کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے وہ صدر سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل زمینی حقائق یہ ہیں کہ ان کے پاس پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ انٹرویو میں کہیں بھی آصف زرداری نے یہ نہیں کہا کہ وہ صدر کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ چاہتے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر ان کی جماعت کا موقف واضح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ایک ’ایگزیکٹو‘ حکم کے تحت آئین میں درج اس کے اختیارات میں لائی گئی کمی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے بقول عوامی جذبات کی ترجمانی کرنے والی ایک مستحکم پارلیمان ہی صدر کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے بارے میں آزاد فیصلے کرے گی۔

 عددی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مواخذے کی قرارداد کو کامیاب کرانے کے لیے پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادی مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت یعنی تین سو باسٹھ اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے

آصف علی زرداری کے انٹرویو سے یہ قیاس کیا جانے لگا تھا کہ صدر اور اس جماعت کے درمیان نئی حکومت کو چلانے سے متعلق کوئی مفاہمت ہو چکی ہے۔ بعض لوگ اس کے لیے پیپلز پارٹی پر مغربی ممالک کے دباؤ کو اصل وجہ بھی بیان کر رہے تھے۔ تاہم اس وضاحت سے صورتحال قدرے واضح ہوئی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ نواز بھی کہہ چکی ہے کہ وہ پارلیمان کو مضبوط بنانا چاہتی ہے اور صدر کو چاہیے کہ وہ مواخذے کی قرارداد سے بچنے کی خاطر پہلے ہی صدارت سے متعلق کوئی فیصلہ کر لیں۔

عددی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مواخذے کی قرارداد کو کامیاب کرانے کے لیے پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادی مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت یعنی تین سو باسٹھ اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے اور پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ اسے اتنے اراکین کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

اسی بارے میں
سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی
24 February, 2008 | الیکشن 2008
زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق
21 February, 2008 | الیکشن 2008
حکومت سازی کی کوششوں کا آغاز
20 February, 2008 | الیکشن 2008
زرداری کے خلاف تفتیش پر زور
20 February, 2008 | الیکشن 2008
مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد