BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 February, 2008, 15:03 GMT 20:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شراکتِ اقتدار کا اختیار زرداری کے پاس

آصف علی زرداری (فائل فوٹو)
مسلم لیگ (ق) کو بطور سیاسی جماعت ساتھ نہیں ملایا جائے گا: آصف علی زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب اور صوبہ سرحد کی پارلیمانی پارٹیوں نے شراکت اقتدار کا فارمولہ طے کرنے کا اختیار شریک چیئرمین آصف علی زردای کو سونپ دیا ہے۔

یہ فیصلہ سنیچر کو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد دونوں صوبوں کی اسمبلیوں کے نو منتخب اراکین کے علیحدہ علیحدہ ہونے والے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاسوں میں کیا گیا۔

آصف علی زرداری نے اجلاسوں سے خطاب میں ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کو بطور سیاسی جماعت ساتھ نہیں ملایا جائے گا۔ انہوں نے پنجاب کے اراکین کو بتایا کہ مسلم لیگ (ق) کے حامد ناصر چٹھہ اور میاں منظور احمد وٹو سمیت بعض اراکین نے ان سے رابطے کیے ہیں۔

پارلیمانی پارٹی سے خطاب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ عوام نے انہیں پاکستان میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور پارلیمان سمیت تمام اداروں کو مضبوط بنانے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہم خیال جماعتوں سے مل کر پارلیمان توڑنے جیسی شقوں کو آئین سے خارج کرنا چاہتے ہیں۔

پروگرام کے مطابق اتوار کو بلاول ہاؤس کراچی میں آصف علی زرداری بلوچستان اور صوبہ سندھ میں حکومت سازی کے لیے ان صوبوں سے اپنی پارٹی کے نو منتخب اراکین سے مشاورت کریں گے۔

دریں اثنا صوبہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم کے آْبائی ضلع تھرپارکر سے ہارنے والے پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے سنیچر کو یورپی یونین انتخابی مبصرین سے ملاقات کرکے انہیں مبینہ دھاندلی کے ثبوت پیش کیے۔

پی پی پی امیدواروں کا مطالبہ
ضلع بھر میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں اور ارباب غلام الرحیم کا نام ان لوگوں میں شامل کیا جائے جن کے ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے
ڈاکٹر مھیش ملانی

تھرپار کر سے ہارنے والے پیپلز پارٹی کے امیدواروں جن میں ڈاکٹر مھیش ملانی اور انجنیئر ولی محمد راہموں بھی شامل ہیں انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ ضلع بھر میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں اور ارباب غلام الرحیم کا نام ان لوگوں میں شامل کیا جائے جن کے ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے۔

ایک اور نیوز بریفنگ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر صفدر عباسی اور کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ دو سو پچاس سے ان کے امیدوار مرزا اختیار بیگ نے ایم کیو ایم پر دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں
جبکہ اس موقع پر بلوچستان کے ضلع بارکھان سے ہارنے والے پیپلز پارٹی کے امیدوارو میر باز خان کھیتران نے ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں پر دھاندلی کرنے اور انہیں ہرانے کا الزام لگایا۔

اس پریس کانفرنس میں صوبہ سرحد کے حلقہ اکتیس سے پیپلز پارٹی کے ہارنے والے امیدوار نے مسلم لیگ (ق) کے امیر مقام پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے دھاندلی کے بعد تیس پولنگ سٹیشنز کا ریکارڈ جلا دیا ہے۔

صفدر عباسی نے سندھ کے ضلع خیرپور میں پیر پگاڑہ کے حامیوں پر دھاندلی کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا متعلقہ قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں دوبارہ انتخاب کرایا جائے۔

واضح رہے کہ آصف علی زرداری سے سنیچر کو بھارتی ہائی کمشنر، چین کے سفیر کے علاوہ انور سیف اللہ خان اور منظور وٹو نے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

بینظیر’متاثرکن کارکردگی‘
لیکن بینظیر ہلاکت کا اثر نتائج پر کم نظر آیا
بینظیر کے بعد کون؟
پیپلز پارٹی کی باگ ڈور اب کون سنبھالے گا
چالیس برس
پی پی پی کے دو رہنما، چار وزرائے اعظم
نواز شریف اور بینظیرپی پی پی، نواز لیگ
پی پی پی (ن) لیگ کواعتراضات بتائے گی
تہمینہ دولتانہ خواتین کی کامیابی
عام انتخابات میں چوبیس خواتین کامیاب
اسی بارے میں
پی پی کی ترجیحات کا اعلان
22 February, 2008 | پاکستان
پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت
19 February, 2008 | پاکستان
آصف علی زرداری کا سفر
31 December, 2007 | پاکستان
انتخابات، جماعتیں اور منشور
17 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد