غیر مشروط تعاون: زرداری، الطاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے درمیان جمعہ کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے جو لگ بھگ نصف گھنٹے جاری رہی۔ ایم کیوایم کے ایک اعلامیے کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے سے غیر مشروط تعاون کریں گی۔ اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے انتخابات میں کامیابی پر ایک دوسرے کو مبارکبار پیش کی۔ آصف علی زرداری کاکہنا تھا کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی حقیقیت ہے جسے کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا اور ’ہم چاہتے ہیں کہ ہم ساتھ رہیں اور مل جل کر سندھ اور پاکستان کے عوام کی خدمت کریں‘۔
اعلامیے کے مطابق آصف زرداری نے الطاف حسین سے کہا کہ ’ماضی میں آپ نے اور آپ کے لوگوں نے بہت دکھ جھیلے ہیں اور ہم نے بھی ماضی میں بہت دکھ اٹھائے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا ہرگز نہ ہو اور مل جل کر ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کریں اور کوئی ہمیں لڑوانے کی دوبارہ کوشش کرے تو ہم منع کردیں کہ ہم اب آپس میں ہرگز نہیں لڑیں گے‘۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہم مل جل کر نہ صرف سندھ اور پاکستان کے عوام کے مسائل حل کریں بلکہ ماضی کے زخموں کا ازالہ بھی کریں‘۔ الطاف حسین نے اس موقع پر ایک بار پھر بے نظیر بھٹو کے قتل پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ’میں نے پیپلز پارٹی کی کامیابی پر الیکشن کے فوراً بعد اپنے خطاب میں آپ کو مبارکباد دی تھی اور آج پھر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی پر جب بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر حملہ ہوا تھا تو اس کے اگلے دن ان کی بے نظیر بھٹو سے تفصیلی گفتگو ہوئی تھی جس میں نہ صرف ماضی کے حوالے سے بات ہوئی تھی بلکہ استحکام پاکستان اور سندھ کی جو حالت زار ہے اس حوالے سے بھی بہت مثبت گفتگو ہوئی تھی۔ الطاف حسین نے کہا کہ ’ماضی میں ہمیں آپس میں لڑایا گیا اور سندھ میں لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل کیا گیا، اگر ہم ماضی کی طرح لڑتے رہیں گے تو لڑائی کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوسکے گا‘۔
’اگر ہم متحد رہیں اور مل جل کر کام کریں تو آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سندھ اور پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا اور اگر ہم متحد رہیں تو نہ صرف سندھ کے مسائل حل کرسکیں گے اور پاکستان کے عوام کی خدمت کرسکیں گے بلکہ بے نظیر بھٹو کی روح بھی خوش ہوگی۔‘ ملاقات کے دوران یہ بھی طے پایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ دریں اثناء ایم کیو ایم کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت کی چند دنوں میں باضابطہ ملاقات ہوگی جس میں حکومت سازی کے سلسلے میں مزید بات ہوگی۔ واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کی 130 جنرل نشستوں میں سے پیپلز پارٹی نے 71 اور ایم کیو ایم نے 37 نشستیں حاصل کی ہیں اس طرح پیپلز پارٹی صوبے کی سب سے بڑی اور ایم کیو ایم دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ آصف زرداری نے کچھ روز پہلے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ آئندہ حکومت میں ایم کیو ایم کو بھی ساتھ لے کر چلیں کیونکہ ان کے بقول جب وہ قومی مفاہمت پر مبنی حکومت کی بات کرتے ہیں تو ایم کیو ایم کو اس سے باہر نہیں رکھ سکتے۔ تاہم انہوں نے ایم کیو ایم سے اتحاد کرنے پر پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت میں پائے جانے والے اختلاف کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ’ کراچی میں ہمارے پارٹی کے دوستوں کو اس (ایم کیو ایم سے اتحاد کرنے) پر اعتراض ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ اور اگر وہ (ایم کیو ایم) حکومت میں نہیں آنا چاہتے تو اسکے باوجود ان کے ساتھ ہمارے اتنے مراسم ضرور ہیں کہ ہم ان کے ساتھ چلیں‘۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انتخابات کے بعد سے کراچی میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے ایم کیو ایم پر انتخابات کے دوران جبروتشدد کے زور پر دھاندلی کرنے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے علاوہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر کارکنوں کے خلاف پرتشدد واقعات کے بھی الزامات عائد کیے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے بعض پولنگ ایجنٹوں کو اغواء کیا گیا جن میں سے ایک کی لاش اگلے دن ملی جبکہ ایم کیو ایم نے بھی اپنے دو کارکنوں کے قتل کا الزام پیپلز پارٹی کے مقامی کارکنوں پر لگایا ہے۔ | اسی بارے میں پی پی:مزید حمایت حاصل کرنےکادعوٰی22 February, 2008 | الیکشن 2008 نواز لیگ، پنجاب پر ہی زور دیا22 February, 2008 | الیکشن 2008 شجاعت، رشید، اعجازالحق کی ہار18 February, 2008 | پاکستان پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت19 February, 2008 | پاکستان سیاستدانوں کے رویوں میں تبدیلی21 February, 2008 | پاکستان مشرف کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا21 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||