پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے بلکہ یہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملک کے چاروں صوبوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ تاہم انتخابی نتائج میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی ہمدردی کا اثر اس حد تک نظر نہیں آتا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ صوبہ سندھ میں بھی مشرف کے حامی گھوٹکی، شکارپور، نوشہروفیروز، خیرپور، تھرپارکر اور ٹھٹھہ سے قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو ہمدردی کی ایک وسیع لہر کی موجودگی میں ممکن نہ ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک طویل عرصے کے بعد صوبہ سرحد سے کم از کم دس نشستیں حاصل کیں۔ ان میں سے تین نشستیں پشاور ویلی سے جیتی گئی ہیں جبکہ پی پی پی کو تین ہی نشستیں دیر اور مالاکنڈ جیسے دور دراز کے اضلاع میں حاصل ہوئی ہیں۔ پی پی پی کے باقی چار امیدوار سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، مردان اور کوہستان سے کامیاب ہوئے ہیں۔ پنجاب میں پی پی پی کو بڑی کامیابیاں جنوبی پنجاب سے حاصل ہوئی ہیں جہاں اس کے امیدواروں نے رحیم یار خان، بہاولنگر، مظفر گڑھ، راجن پور اور ملتان جیسے اضلاع میں قومی اسمبلی کی نشستیں جیتی ہیں۔
قصور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ جیسے سنٹرل پنجاب کے اضلاع میں پیپلز پارٹی نے اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی اس سے توقع کی جا رہی تھی۔ پیپلز پارٹی کا کوئی بھی امیدوار شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب سے قومی اسمبلی کی کسی نشست پر جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسی شیخوپورہ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انیس سو اٹھاسی میں تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں بھی پیپلز پارٹی کے ہاتھ صرف ایک سیٹ آئی جبکہ سیالکوٹ میں اس کی صرف ایک امیدوار اپنی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ پی پی پی جھنگ سے بھی صرف ایک ہی نشست جیت سکی ہے جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے اس کے تمام امیدوار ناکام رہے ہیں۔ دوسری طرف اوکاڑہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی خاصی متاثر کن رہی ہے جہاں اسے تین سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مبصرین کی توقع کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی فیصل آباد سے بھی پانچ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے جبکہ ایک نشست پر اس کے منحرف امیدوار فاروق سعید خان آزاد حیثیت سے الیکشن جیتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا پلڑہ بھاری رہا ہے اور اس کے امیدواروں نے رحیم یار خان کی چھ میں سے چار نشستیں جیتی ہیں جبکہ بہاولنگر میں اسے چار میں سے تین نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ مظفر گڑھ میں پیپلز پارٹی نے کلین سویپ کیا ہے اور اس کے امیدوار ضلع کی پانچ کی پانچ نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ راجن پور سے بھی اسے ایک بڑے طویل عرصے کے بعد قومی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ وہاڑی سے اس کے امیدوار محمود حیات عرف ٹوچی خان اور عظیم دولتانہ اپنی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ ساہیوال سے بھی پی پی پی نے چیچہ وطنی اور ہڑپہ کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ملتان میں اس کے ہاتھ چھ میں سے تین نشستیں آئی ہیں۔
پیپلز پارٹی سندھ کے شہری علاقوں سے مذہبی جماعتوں کی غیرحاضری کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکی اور سن دو ہزار دو میں ایم ایم اے کے امیدواروں کی حاصل کردہ ایک کے سوا تمام نشتیں ایم کیو ایم کے حصے میں آئیں۔ دوسری طرف سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی وہ صدر مشرف کے حامی امیدواروں کا صفایا کرنے میں ناکام رہی ہے اور ٹھٹھہ سے اعجاز علی شاہ شیرازی، تھرپارکر سے ارباب ذکاء اللہ اور ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو، سانگھڑ سے جادم منگریو اور غلام دستگیر راجڑ، نوشہروفیروز سے غلام مرتضٰے جتوئی، گھوٹکی سے علی محمد مہر اور شکارپور کی دو نشستوں سے غوث بخش مہر اور ابراہیم جتوئی کی کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں ایم ایم اے کی غیرموجودگی کا پورا فائدہ اٹھایا ہے اور قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر اس کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں کوئٹہ سے سید ناصر علی شاہ اور الحاج محمد عمر، نصیر آباد سے تاج محمد جمالی اور قلات سے ڈاکٹر آیت اللہ درانی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں مشرف مخالف جماعتوں کی جیت19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی اسمبلی کے نئے چہرے19 February, 2008 | الیکشن 2008 ’اب مشرف اپنی آنکھیں کھولیں‘19 February, 2008 | الیکشن 2008 غلطیوں کا ’رگڑا‘ ملا ہے: مشاہد19 February, 2008 | الیکشن 2008 بلوچستان: پیپلز پارٹی کی سبقت19 February, 2008 | الیکشن 2008 ممکنہ اتحاد بنانے کا عمل شروع 18 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||