BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 February, 2008, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاستدانوں کے رویوں میں تبدیلی

پاکستان انتخابات
سیاستدان ایک دوسرے پر الزامات نہیں لگا رہے ہیں
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتائج نے جہاں بیشتر تجزیہ کاروں اور مبصرین کے اندازے اور خدشات کو غلط ثابت کیا ہے وہاں بظاہر پاکستانی سیاسی کلچر کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں جب بھی انتخابات ہوئے تو اس کے فوراً بعد سیاسی جماعتیں ہوں یا آئی ایس آئی سمیت انٹیلیجنس ادارے وہ اراکین کو لالچ یا خوف کے ہتھیار سے مرعوب کرنے اور جوڑ توڑ کی دوڑ میں پڑ جاتے۔سیاستدان ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے، دھاندلی کے الزامات لگاتے، نتائج قبول نہیں کرتے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے۔

ماضی میں یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ بظاہر اگر کوئی جماعت معمولی عددی برتری حاصل بھی کرتی تو ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا بازارگرم کر کے حکومت کوئی اور بنا لیتا، جیسا کہ سن دو ہزار دو کے انتخابات میں بھی ہوا۔

لیکن اس بار صدر پرویز مشرف اور ان کی کنگز پارٹی (ق) لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت نے اپنی ہار تسلیم کی ہے اور حکومت سازی کے لیے بظاہر ایسا کچھ نہیں کر رہے جیسا کہ سن دو ہزار دو میں انہوں کیا۔ اور اس بات کا کریڈٹ مسلم لیگ (ق) کو بھی دینا پڑے گا، کوئی چاہے مانے یہ نہ مانے۔

دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے بھی اکثریتی مینڈیٹ والوں کا احترام کرنے اور حکومت سازی میں ان کے حق کو تسلیم کرنے کے بیانات دیے ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مرکز میں پیپلز پارٹی کا اکثریت جماعت ہونے کے ناطے حکومت سازی کا حق ہے۔

اب کی بار تو آئی ایس آئی بھی تاحال بظاہر جوڑ توڑ کی دوڑ سے دور دکھائی دے رہی ہے اور سیاسی اکھاڑے سے باہر بیٹھ کر تماشا دیکھ رہی ہے۔ حالانکہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج صدر مشرف کے انتہائی بااعتماد افسر ہیں ۔

پہلی بار پاکستان میں انتخابات جیتنے کے باوجود ملک کی سرکردہ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کا کردار محدود کرنے، پارلیمان، عدلیہ اور دیگر اداروں کو مضبوط کرنے پر متفق نظر آتے ہیں۔

 سرکردہ سیاسی جماعتوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بہت رگڑا کھایا اور دوسری بات یہ ہے کہ اب ملک میں میڈیا اور سول سوسائٹی کا بطور ’واچ ڈاگ‘ کردار بھی وسیع ہوا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری کو بھی احساس ہے اور انہوں نے کہنا شروع کیا ہے کہ پاکستان میں جب اسٹیبلشمنٹ کا اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے تو اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

سیاستدانوں کے رویے اور کردار میں یہ ایک سو اسی ڈگری کی تبدیلی کیوں اور کیسے آئی؟ تجزیہ کار اس کی مختلف وجوہات گنواتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک وجہ تو یہ ہے کہ سرکردہ سیاسی جماعتوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بہت رگڑا کھایا اور دوسری بات یہ ہے کہ اب ملک میں میڈیا اور سول سوسائٹی کا بطور ’واچ ڈاگ‘ کردار بھی وسیع ہوا ہے۔

پاکستان میں یہ بھی پہلا موقع ہے کہ سیاسی جماعتیں بظاہر حکومت سازی کے لیے احتیاط برت رہی ہیں اور ماضی کی روایتی جلدبازی سے گریزاں ہیں۔اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج تو پہلے ہی صدر پرویز مشرف کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوچکے ہیں لیکن سیاستدانوں کے بدلتے تیور ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

نواز شریف
سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کا کردار محدود کرنے، پارلیمان، عدلیہ اور دیگر اداروں کو مضبوط کرنے پر متفق نظر آتے ہیں

پہلے تو صدر صاحب نے کہا تھا کہ اگر ان کے حامیوں کو شکست ہوئی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ لیکن اب ایک بار پھر اپنے قول سے پھرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے مفاد‘ کا تقاضا ہے کہ اب بھی وہ صدارت کے عہدے پر فائز رہیں۔

صدر کی خواہش اپنی جگہ لیکن پاکستان کا نیا ماحول آئے روز ان کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ وہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کے بدلتے سیاسی کلچر کی بھینٹ چڑھ جائیں۔

پاکستان میں بدلتے سیاسی کلچر کے بارے میں کچھ تجزیہ کار تو اب یہاں تک کہتے ہیں کہ پہلی بار پاکستان پر بھارت کی مضبوط جمہوری روایات اور اداروں کا سایہ پڑا ہے۔ جمہوری روایات اور اداروں کی مضبوطی کا یہ سایہ کتنی دیر قائم رہتا ہے اور قائم ہونے والا نیا سیاسی کلچر کب تک برقرار رہتا ہے اس کا دارومدار بھی سیاسی قیادتوں کی قوت ارادی اور عزم پر ہوگا۔

نواز شریف اور آصف زرداری’بات دو تہائی کی‘
ممکنہ حکمران اتحاد اور دو تہائی اکثریت
ایم کیو ایممتحدہ کیوں اہم
پی پی پی کیوں متحدہ کو نظر انداز نہیں کرسکتی
نواز شریفجوڑ توڑ کا آغاز؟
ق لیگ ارکان کو نواز شریف کی دعوت
پی پی پی اور پی ایم ایل ایناسمبلی کے نئے چہرے
سیاسی خاندان: کون کس کا کیا لگتا ہے
نواز شریفنواز شریف:
اب مشرف اپنی آنکھیں کھولیں
’ایک پرچی کی مار‘’ایک پرچی کی مار‘
عوام کو جاہل، ان پڑھ سمجھنے کی سزا؟
اسی بارے میں
زرداری کے خلاف تفتیش پر زور
20 February, 2008 | الیکشن 2008
حکومت سازی،ملاقاتیں شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم
21 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد