سیاستدانوں کے رویوں میں تبدیلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتائج نے جہاں بیشتر تجزیہ کاروں اور مبصرین کے اندازے اور خدشات کو غلط ثابت کیا ہے وہاں بظاہر پاکستانی سیاسی کلچر کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں جب بھی انتخابات ہوئے تو اس کے فوراً بعد سیاسی جماعتیں ہوں یا آئی ایس آئی سمیت انٹیلیجنس ادارے وہ اراکین کو لالچ یا خوف کے ہتھیار سے مرعوب کرنے اور جوڑ توڑ کی دوڑ میں پڑ جاتے۔سیاستدان ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے، دھاندلی کے الزامات لگاتے، نتائج قبول نہیں کرتے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے۔ ماضی میں یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ بظاہر اگر کوئی جماعت معمولی عددی برتری حاصل بھی کرتی تو ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا بازارگرم کر کے حکومت کوئی اور بنا لیتا، جیسا کہ سن دو ہزار دو کے انتخابات میں بھی ہوا۔ لیکن اس بار صدر پرویز مشرف اور ان کی کنگز پارٹی (ق) لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت نے اپنی ہار تسلیم کی ہے اور حکومت سازی کے لیے بظاہر ایسا کچھ نہیں کر رہے جیسا کہ سن دو ہزار دو میں انہوں کیا۔ اور اس بات کا کریڈٹ مسلم لیگ (ق) کو بھی دینا پڑے گا، کوئی چاہے مانے یہ نہ مانے۔ دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے بھی اکثریتی مینڈیٹ والوں کا احترام کرنے اور حکومت سازی میں ان کے حق کو تسلیم کرنے کے بیانات دیے ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مرکز میں پیپلز پارٹی کا اکثریت جماعت ہونے کے ناطے حکومت سازی کا حق ہے۔ اب کی بار تو آئی ایس آئی بھی تاحال بظاہر جوڑ توڑ کی دوڑ سے دور دکھائی دے رہی ہے اور سیاسی اکھاڑے سے باہر بیٹھ کر تماشا دیکھ رہی ہے۔ حالانکہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج صدر مشرف کے انتہائی بااعتماد افسر ہیں ۔ پہلی بار پاکستان میں انتخابات جیتنے کے باوجود ملک کی سرکردہ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کا کردار محدود کرنے، پارلیمان، عدلیہ اور دیگر اداروں کو مضبوط کرنے پر متفق نظر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری کو بھی احساس ہے اور انہوں نے کہنا شروع کیا ہے کہ پاکستان میں جب اسٹیبلشمنٹ کا اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے تو اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سیاستدانوں کے رویے اور کردار میں یہ ایک سو اسی ڈگری کی تبدیلی کیوں اور کیسے آئی؟ تجزیہ کار اس کی مختلف وجوہات گنواتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک وجہ تو یہ ہے کہ سرکردہ سیاسی جماعتوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بہت رگڑا کھایا اور دوسری بات یہ ہے کہ اب ملک میں میڈیا اور سول سوسائٹی کا بطور ’واچ ڈاگ‘ کردار بھی وسیع ہوا ہے۔ پاکستان میں یہ بھی پہلا موقع ہے کہ سیاسی جماعتیں بظاہر حکومت سازی کے لیے احتیاط برت رہی ہیں اور ماضی کی روایتی جلدبازی سے گریزاں ہیں۔اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج تو پہلے ہی صدر پرویز مشرف کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوچکے ہیں لیکن سیاستدانوں کے بدلتے تیور ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
پہلے تو صدر صاحب نے کہا تھا کہ اگر ان کے حامیوں کو شکست ہوئی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ لیکن اب ایک بار پھر اپنے قول سے پھرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے مفاد‘ کا تقاضا ہے کہ اب بھی وہ صدارت کے عہدے پر فائز رہیں۔ صدر کی خواہش اپنی جگہ لیکن پاکستان کا نیا ماحول آئے روز ان کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ وہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کے بدلتے سیاسی کلچر کی بھینٹ چڑھ جائیں۔ پاکستان میں بدلتے سیاسی کلچر کے بارے میں کچھ تجزیہ کار تو اب یہاں تک کہتے ہیں کہ پہلی بار پاکستان پر بھارت کی مضبوط جمہوری روایات اور اداروں کا سایہ پڑا ہے۔ جمہوری روایات اور اداروں کی مضبوطی کا یہ سایہ کتنی دیر قائم رہتا ہے اور قائم ہونے والا نیا سیاسی کلچر کب تک برقرار رہتا ہے اس کا دارومدار بھی سیاسی قیادتوں کی قوت ارادی اور عزم پر ہوگا۔ |
اسی بارے میں زرداری کے خلاف تفتیش پر زور20 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی،ملاقاتیں شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری اور ولی مخلوط حکومت پر متفق21 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم 21 February, 2008 | الیکشن 2008 نتائج روکنے، دوبارہ گنتی کے مطالبات 21 February, 2008 | الیکشن 2008 ’مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں‘ مشرف20 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||