پی پی کی ترجیحات کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت بنانے کے بعد اپنی مقتول لیڈر بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے اور پارلیمان کو با اختیار بنانے کے لیے صدر کا اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کرنا ان کی اہم ترجیحات ہوں گی۔ جمعہ کو پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی سربراہی میں نو منتخب اراکین قومی اسمبلی کا ایک اجلاس ہوا جس میں خیال تھا کہ وزارت اعظمیٰ کے لیے امیدوار کی نامزدگی کی جائے گی لیکن ایسا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم اجلاس کے بعد بعض نو منتخب اراکین قومی اسمبلی نے بتایا کہ مخدوم امین فہیم کا تعارف بطور صدر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کروایا گیا۔ جس سے ان کے بقول انہیں عندیہ ملا کہ وزیراعظم کے لیے ممکنہ امیدوار شاید مخدوم امین فہیم ہی ہوں۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بارے میں جاری کردہ بیان میں فرحت اللہ بابر نے بتایا ہے کہ آصف علی زرداری نے اراکین سے خطاب میں کہا کہ انتخابات سے قبل بے انتہا دھاندلی اور انتخابات کے دن مخصوص نوعیت کی دھاندلی کے باوجود بھی ان کی جماعت کے اکثریت سے منتخب ہونے کی بڑی وجہ بینظیر بھٹو کی قربانی ہے۔ اجلاس میں کئی اراکین نے دھاندلی کی شکایات کیں جس پر آصف علی زرداری نے انہیں کہا کہ وہ پارٹی کے الیکشن مانیٹرنگ سیل کے ذریعے معاملات الیکشن کمیشن اور متعلقہ قانونی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھائیں۔
سنیچر تئیس فروری کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس صبح ساڑھےگیارہ بجے جبکہ اُسی روز شام چار بجے سرحد اسمبلی کے اراکین کا اجلاس زرداری ہاؤس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے۔ پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق چوبیس فروری کی صبح ساڑھے گیارہ بجے بلوچستان اور شام چار بجے سندھ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کراچی میں بلاول ہاؤس میں بلائے گئے ہیں۔ دریں اثناء امریکی کانگریس کے دو اراکین اور پاکستان میں امریکی سفیر پر مشتمل وفد نے آصف علی زرداری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وفد نے بینظیر بھٹو کے قتل پر تعزیت کی اور انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جیت پر مبارکباد دی۔ امریکی سفارتخانے سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے امریکی وفد نے پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین سے جمہوریت کی بحالی کے سفر، قانون کی بالادستی، دہشت گردی کے خاتمے اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ترقی کے بارے میں امریکی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وفد نے پیپلز پارٹی کے رہنما سے ملاقات سے قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی۔ جس میں امریکی وفد نے اٹھارہ فروری کو آزادنہ انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر صدر پرویز مشرف نے امید ظاہر کی کہ انتخابات پاکستان میں استحکام پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ امریکی کانگریس کے وفد سے بات چیت میں انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ سیاسی استحکام، اقتصادی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسیاں جاری رکھی جائیں گی۔ | اسی بارے میں ’فردِ واحد کے اقدام کو تحفظ نہ دیں‘21 February, 2008 | پاکستان کراچی: وکلاء کی ریلی پر لاٹھی چارج21 February, 2008 | پاکستان نواز، شہباز پارلیمانی لیڈران21 February, 2008 | پاکستان مل کر حکومت بنائیں گے21 February, 2008 | پاکستان امریکہ نے مشرف کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا21 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||