مل کر حکومت بنائیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی کے بعد مسلم لیگ نواز نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کو مرکزی حکومت کے لیے بھاری اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کے ہمراہ اسلام آباد میں واقع زرداری ہاؤس جا کر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے حکومت سازی پر بات کی اور بعد میں مشترکہ نیوز بریفنگ میں حکومت سازی میں تعاون کا اعلان کیا۔ میاں نواز شریف نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ ’ہم مرکز میں حکومت بنانے کے لیے پر اعتماد ہیں کیوں کہ ہمارے پاس واضح اکثریت حاصل ہے۔ ہم مرکز میں مل کر کام کریں گے۔ ہم صوبوں میں بھی حکومت بنائیں گے اور بظاہر ہمیں اس میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔‘ میاں نواز شریف نے کہا کہ مرکز میں حکومت بنانا پیپلز پارٹی کا حق ہے اور ان کے پانچ برس کی مدت مکمل کرنے کے حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ مرکزی حکومت کا حصہ بنیں گے یا کہ حمایت کریں گے تو انہوں نے کہا کہ یہ بات انہوں نے ابھی طے کرنی ہے۔ مسلم لیگ نواز اور اے این پی کی جانب سے مخلوط حکومت بنانے پر رضامندی سے انہیں تین سو بیالیس اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی میں تقریباً دو سو کے قریب اراکین کی حمایت حاصل ہوجائے گی۔ جبکہ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اراکین کی تعداد ایک سو بہتر ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیاں ججز کی بحالی پر پائے جانے والے اختلاف رائے کے بارے میں میں نواز شریف نے کہا کہ تمام ججوں کی بحالی کے بارے میں دونوں جماعتوں میں اصولی طور پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور اس کا طریقہ کار پارلیمان میں پہنچ کر واضح کریں گے۔ نواز شریف نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے پیپلز پارٹی کے مطالبے کی حمایت کی۔
ایک سوال پر میاں نواز شریف نے کہا کہ صدر پرویزمشرف کے بارے میں ان کی رائے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور صدر پرویز مشرف کو چاہیے کہ جتنا جلد ممکن ہوسکے وہ عوام کی بات مان لیں۔ قبل ازیں جمعرات کی صبح پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ملاقات کی جس میں دونوں نے مخلوط حکومت بنانے پر اتفاق کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اٹھارہ فروری کے انتحابات کے بعد قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پیپلز پارٹی کے سربراہ نے پہلی بار حکومت سازی کے لیے اپنی دو اہم ہم خیال اور صدر مشرف کی مخالف سیاسی جماعتوں سے براہ راست بات چیت کی ہے۔ جس کے ساتھ ہی ملک میں حکومت سازی کی باضابطہ اور عملی سرگرمیاں بھی ایک لحاظ سے شروع ہوگئی ہیں۔ اسلام آباد میں واقع پارلیمنٹ لاجز میں آصف علی زرداری اور اسفندیار ولی خان نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا ’ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور پارلیمان سمیت تمام اداروں کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے پیکیج کے بارے میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘ میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات سے قبل اپنی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں انہیں رکن اسمبلی نہ ہونے کے باوجود پارلیمانی لیڈر منتخب کیا گیا۔ میاں نواز شریف نے بعد میں معزول چیف جسٹس کی رہائش گاہ کے قریب ان کی رہائی اور بحالی کے لیے مظاہرہ کرنے والے وکلاء سے بھی خطاب کیا اور اپنا موقف دہرایا کہ وہ ججوں کی بحالی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر پرویز مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ (ق) سے اتحاد کو مسترد کرکے مسلم لیگ نواز کو ترجیح دینے کے اقدام کو بعض تجزیہ کار پیپلز پارٹی کی صدر پرویز مشرف سے محاذ آرائی کے آغاز سے تعبیر کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں صبح ساڑھے گیارہ بجے طلب کیا ہے۔ سنیچر تئیس فروری کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس صبح ساڑھےگیارہ بجے جبکہ اُسی روز شام چار بجے سرحد اسمبلی کے اراکین کا اجلاس زرداری ہاؤس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے۔ پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق چوبیس فروری کی صبح ساڑھے گیارہ بجے بلوچستان اور شام چار بجے سندھ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کراچی میں بلاول ہاؤس میں بلائے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں شجاعت، رشید، اعجازالحق کی ہار18 February, 2008 | پاکستان پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت19 February, 2008 | پاکستان سیاستدانوں کے رویوں میں تبدیلی21 February, 2008 | پاکستان امریکہ نے مشرف کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا21 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||