BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 March, 2008, 23:50 GMT 04:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی رہنماؤں کے خلاف ریفرنس ختم

جہانگیر بدر کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام تھا
لاہور کی احتساب عدالت نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر، سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے پرنسپل سیکرٹری احمد صادق اور پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق صوبائی وزیر ملک مشتاق اعوان کے خلاف دائر الگ الگ ریفرنس ختم کردیئے ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے جہانگیر بدر اوراحمد صادق کے خلاف غیرقانونی اثاثے بنانے جبکہ ملک مشتاق اعوان کے خلاف قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے علیحدہ علیحدہ ریفرنس دائر کیے تھے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد پانچ اکتوبر کی شب قومی مفاہمتی آرڈیننس سنہ دو ہزار سات جاری کیا تھا۔ اس آرڈیننس کے تحت ارکان اسمبلی اور ہولڈرز آف پبلک آفس کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت ایسے ریفرنس خارج ہوسکیں گے جو یکم جنوری سنہ انیس سوچھیاسی سے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کے دوران عدالتوں میں دائر کیے گئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف بھی احتساب عدالتوں میں کچھ مقدمے اسی آرڈینینس کے تحت خارج کیے جا چکے ہیں۔

نیب نے جہانگیر بدر کے خلاف سنہ دو ہزار ایک میں بدعنوانی کے الزامات میں ریفرنس لاہور کی احتساب عدالت میں دائر کیا تھا جس میں نیب نےالزام عائد کیا تھا کہ جہانگیر بدر کا رہن سہن ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا۔

احمد صادق کے خلاف اس وقت کے صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے دو فروری سنہ انیس ستانوے میں لاہور ہائی کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا جس میں ان پر غیرقانی ذرائع آمدن سے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بعدازں نیب آرڈننیس کے اجر کے بعد یہ ریفرنس احتساب عدالت میں منتقل ہوگیا۔

ملک مشتاق اعوان کے خلاف نیب نے سنہ دو ہزار دو میں ریفرنس دائر کیا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے پنجاب کے صوبائی وزیر کی حیثیت سے ضلع کونسل شیخوپورہ میں چونگیوں کے ٹھیکے دیتے ہوئے مالی بےضابطگیاں کیں جس سے قومی خزانے کو نقصان ہوا۔

ملک مشتاق اعوان نے اپنے خلاف ریفرنس پر کارووائی روکنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا تھا جس کی وجہ سے ان کے خلاف ریفرنس پر کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی۔

صدر جنرل پرویز مشرف کیطرف قومی مفاہمتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد مذکورہ افراد نے اپنے دائر ریفرنسوں کے خاتمے کے لیےدرخواستیں دائر کی تھیں جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ’صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی دفعہ سات کے تحت درخواست گزاروں کے خلاف زیر سماعت ریفرنس قانونی طور پر غیرموثر ہوگئے ہیں۔‘

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ صدارتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد اب احتساب عدالت کو ان کے خلاف زیر سماعت ریفرنسوں پر کارروائی کا اختیار نہیں رہا۔

عدالت نے جہانگیر بدر ، احمد صادق اور ملک مشتاق اعوان کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف ریفرنس قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت ختم کردیئے۔

نیبکون کون بچ سکتا ہے
مصالحتی آرڈیننس سے کسے فائدہ ہو رہا ہے؟
بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف’مصالحت کا قانون‘
ماہرینِ قانون کی مصالحتی آرڈیننس پر رائے منقسم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد