مصالحتی آرڈیننس ایک بار پھر مؤثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف کی طرف سے جاری کردہ عبوری آئینی حکم کے تحت وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے بدھ کو قومی مصحالتی آرڈیننس کے خلاف حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے اسے بحال کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے ماتحت عدالتوں کو ہدایات جاری کی ہے ہیں اس آرڈیننس کے تحت آنے والے تمام مقدمات کو اس کی روشنی میں نمٹایا جائے۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے صدر مشرف کے پیپلز پارٹی کی مرحوم رہنماء بینظیر بھٹو سے مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے قومی مصحالتی آرڈیننس پر عملدرآمد کو روکتے ہوئے اس کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔
اس بینچ کی سماعت کرنے والے دیگر ارکان میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس اعجازالحسن اور جسٹس اعجاز یوسف شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے جن تین درخواستوں کو عدم پیروی کی بنا پر خارج کر دیا گیا وہ مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف، جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد اور ایڈوکیٹ طارق اسد کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔ میاں شہبازشریف کے وکیل نے عدالت میں بیان دیا انہیں اپنے موکل کی طرف سے اس مقدمے کی پیروی کرنے کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں ملی۔ جبکہ امیر جماعت اسلامی کے وکیل ڈاکٹر فاروق حسن ملک سے باہر ہیں اور ایڈوکیٹ طارق اسد عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ درخواست گزار ڈاکٹر مبشر حسن عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ان کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ علاج کے لیے امریکہ گئے ہوئے ہیں لہذا اس درخواست کی سماعت چودہ مارچ تک ملتوی کر دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ ان کے وکیل انیس سو تہتر کے آئین کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ انہیں پتہ ہے کہ قومی مفاہمت کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس نوعیت اور قومی اہمیت کا حامل معاملہ ہے اور اس پر تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آرڈیننس کے خلاف درخواستیں دائر کرنے والے اس کی پیروی میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر مشرف کی طرف سے جاری ہونے والا آرٹیکل دوسوستر ٹرپل اے آئین کا حصہ اور اس سے منتخب پارلیمنٹ ہی رد کر سکتی ہے۔ معزول چیف جسٹس نے صدر مشرف کی طرف سے جاری ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی شق چھ اور سات پر عملدرآمد روک دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے کوئی شخص مستفید نہیں ہو سکتا۔ واضح رہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس پر حکم امتناعی خارج ہونے پر سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو ہوگا۔نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر ڈوالفقار بھٹہ کے مطابق اس وقت نیب کی مختلف عدالتوں میں آصف علی زرادری کے خلاف دس سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی وفات کے بعد ان کا نام متعدد مقدمات میں سے خارج کر دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں مصالحتی آرڈیننس، سب کے مزے05 October, 2007 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس پر ملا جلا ردعمل05 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی سزائیں غیرآئینی: عدالت12 October, 2007 | پاکستان غیرملکی ماہرین بلائے جائیں: بینظیر26 October, 2007 | پاکستان مقدمات ختم کرنے کی سفارش مسترد26 October, 2007 | پاکستان جہانگیر درخواست نیب کے پاس29 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||