مقدمات ختم کرنے کی سفارش مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت صوبہ سندھ کے نظر ثانی بورڈ نے تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ساڑھے تین سو مقدمات ختم کرنے کی سفارش مسترد کردی ہے۔ یہ بات سندھ حکومت کے پراسیکیوٹر جنرل ڈاکٹر رانا محمد شمیم نے جمعہ کو بی بی سی کو فون پر بتائی۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سو کے قریب جن مقدمات کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں زیادہ تر مقدمات متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق مسترد کیے گئے مقدمات سیاسی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ وہ سنگین جرائم کے بارے میں ہیں اور ان میں مدعی بھی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی حید عباس رضوی نے کچھ عرصہ پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’این آر او‘ کے اجراء سے پہلے ان کی جماعت کے کارکنوں کے خلاف پانچ سو مقدمات سندھ حکومت واپس لے چکی ہے اور نئے قانون کے تحت ساڑھے چار ہزار مزید مقدمات ختم ہوں گے۔ ان کے بقول ان مقدمات میں الطاف حسین پر بھی دو درجن کے خلاف دائر مقدمات واپس ہوں گے۔
پراسیکیوٹر جنرل نے مزید بتایا کہ سندھ کے نظر ثانی بورڈ کے پاس صوبائی حکومت نے ابھی تک ڈھائی ہزار سے زائد مقدمات بھیجے ہیں جن میں سے ساڑھے تین سو مقدمات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دیگر مقدمات کا نظر ثانی بورڈ ابھی جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی مصالحتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے آٹھ اکتوبر کو نظر ثانی بورڈ قائم کیا۔ بورڈ کے چئرمین جسٹس (ر) غوث محمد ہیں جبکہ صوبائی سیکرٹری قانون اور ایڈووکیٹ جنرل یا پراسیکیوٹر جنرل اس کے اراکین ہیں۔ ایک سوال پر رانا محمد شمیم نے کہا کہ قانون کے مطابق صوبائی محکمۂ داخلہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات ختم کرنے کے لیے نظر ثانی بورڈ کو بھیجتا ہے اور نظر ثانی بورڈ ان کا قانون کے مطابق جائزہ لے کر تعین کرتا ہے کہ کون سا مقدمہ ختم کیا جا سکتا ہے اور کون سا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جو مقدمات بورڈ کے خیال میں ختم ہونے چاہیے ان کی سفارش وزیراعلیٰ کو بھیجی جائے گی اور بورڈ کی سفارش منظور یا مسترد کرنے کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہے، تاہم ان کے مطابق تاحال وزیراعلیٰ کو کوئی سفارش نہیں بھیجی گئی۔ سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق جن مقدمات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ان میں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل ہیں۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت اور بینظیر بھٹو میں مفاہمت کے بعد صدر مشرف نے پانچ اکتوبر کو قومی مصالحتی آرڈیننس یا ’این آر او‘ جاری کیا تھا۔ اس قانون کے تحت یکم جولائی انیس سو چھیاسی اور بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کے درمیانی عرصے میں سیاسی بنیادوں پر قائم بدعنوانی اور انتقامی نوعیت کے مقدمات ختم کردیے گئے ۔ بعض سیاسی جماعتوں اور وکیلوں نے اس قانون کو امتیازی قانون قرار دے کر سپریم کورٹ میں چیلینج کیا تھا۔ عدالت اعظمیٰ نے این آر او کے خلاف حکم امتناعی تو جاری نہیں کیا تھا لیکن کہا تھا کہ حکومت نے جو بھی مقدمات اس قانون کے تحت ختم کیے اس کا انحصار عدالت کے حتمی فیصلے پر ہوگا۔ این آر او کے تحت مرکز اور صوبوں میں نظر ثانی بورڈ بننا ہیں جو مقدمات ختم کرنے کی سفارشات وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ کو بھیجیں گے۔ کئی اپوزیشن رہنما کہتے ہیں کہ یہ قانون بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھیوں کے مقدمات ختم کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے لیکن حکومت کہتی ہے کہ اس کا فائدہ کسی مخصوص جماعت نہیں بلکہ سب کو ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||