BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جہانگیر درخواست نیب کے پاس

جہانگیر بدر
جہانگیر بدر کا رہن سہن ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا: نیب
لاہور کی احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر برائے پٹرولیم جہانگیر بدر کی اس درخواست پر قومی احتساب بیورو سے جواب طلب کرلیا ہے جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم کیے جائیں۔

قومی احتساب بیورو(نیب) نے جہانگیر بدر کے خلاف سنہ دو ہزار ایک میں بدعنوانی کے الزامات میں دو مختلف ریفرنس لاہور کی احتساب عدالت میں دائر کیے تھے۔

ایک ریفرنس میں نیب نےالزام عائد کیا تھا کہ جہانگیر بدر نے سنہ انیس سو اٹھاسی سے سنہ انیس سو نوے کےدوران وزیر پٹرولیم کی حیثیت سے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو سرکاری ملازمتیں دیں۔ دوسرے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر بدر کا رہن سہن ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جہانگیر بدر نے اپنے خلاف ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالتوں کے روبرو درخواست کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی دفعہ سات کے تحت درخواست گزار کے خلاف زیر سماعت ریفرنس قانونی طور پر غیرموثر ہوگئے ہیں۔‘

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ صدارتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد اب احتساب عدالت کو جہانگیر بدر کے خلاف زیر سماعت ریفرنسوں پر کارروائی کا اختیار نہیں رہا۔

دیگر درخواست گزار
 بینظیر بھٹو کے سابق پرنسپل سیکرٹری احمد صادق اور سابق چیئر مین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹایرڈ زاہد علی اکبر نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی بنیاد پر اپنےخلاف بدعنوانی کے الزام میں دائر الگ الگ ریفرنس کے اخراج کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کررکھا ہے

لاہور کی احتساب عدالت نے جہانگیر بدر کے خلاف ریفرنسوں کے خاتمے کے لیے درخواست پر قومی احتساب بیورو سے چوبیس نومبر تک جواب طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت کے بعد پانچ اکتوبر کی شب قومی مفاہمتی آرڈیننس سنہ دو ہزار سات جاری کیا تھا۔ اس آرڈیننس کے تحت ارکان اسمبلی اور ہولڈرز آف پبلک آفس کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت ایسے ریفرنس خارج ہوسکیں گے جو یکم جنوری سنہ انیس سوچھیاسی سے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کے دوران عدالتوں میں دائر کیے گئے تھے۔

اس آرڈیننس کے تحت بینظیر بھٹو کے سابق پرنسپل سیکرٹری احمد صادق اور سابق کور کمانڈر اورسابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹایرڈ زاہد علی اکبر نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی بنیاد پر اپنےخلاف بدعنوانی کے الزام میں دائر الگ الگ ریفرنس کے اخراج کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

ادھر سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے دائر ایک ہی نوعیت کی درخواستوں پر حکومت کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف’مصالحت کا قانون‘
ماہرینِ قانون کی مصالحتی آرڈیننس پر رائے منقسم
نیب لوگومصالحتی آرڈیننس
مصالحت سے کون کون رہے گا فائدے میں؟
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)مفاہمت کی بنیاد
بینظیر بھٹو کی واپسی یا مفاہمت کی بنیاد
اسی بارے میں
قومی مصالحتی آرڈیننس جاری
05 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد