’مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق آئینی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک کسی کو بھی اس آرڈیننس کی روشنی میں رعایت نہیں دی جا سکتی۔ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت کسی بھی طرح کی رعایت کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کرنے کا حکم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مبشر حسن، سابق بیوروکریٹ روئیداد خان اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے بعد دیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے وفاق پاکستان اور صدرِ پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئینی درخواستوں کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواستیں عوامی مفاد کے اہم معاملے سے متعلق ہیں اس لیے ان کی سماعت سپریم کورٹ کا ایک لارجر بینچ کرے گا۔ سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اللہ نواز، سندہ ہائی کورٹ کے جج شائق عثمانی اور سابق اٹارنی جنرل سردار احمد کو عدالت کا معاون مقرر کر دیا۔ آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس نواز عباسی اور جسٹس شاکراللہ جان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ کے سامنے اپنی غیر حاضری میں احتساب عدالت سے سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دے رکھی ہے جس پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔ دوسری طرف بےنظیر بھٹو، آصف علی زرداری، ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رحمٰن ملک اور وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت اپنے خلاف احتساب عدالت میں زیرِ سماعت بدعنوانی کے مقدمات خارج کرنے کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ | اسی بارے میں ریفرنس کاخاتمہ، عدالت سے رجوع09 October, 2007 | پاکستان ’بینظیر فیصلے کے بعد واپس آئیں‘10 October, 2007 | پاکستان سزاؤں کی منسوخی پر فیصلہ محفوظ11 October, 2007 | پاکستان درخواست نہیں ملی، واپسی 18 کو 11 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||