BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 October, 2007, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درخواست نہیں ملی، واپسی 18 کو

صدر مشرف اور بینظیر بھٹو
صدر مشرف نے بیظیر بھٹو سے کہا ہے کہ وہ تک سپریم کورٹ کے فیصلے تک واپس نہ آئیں
پاکستان پیپلز پارٹی کے نائب چیئرمین مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کی تاریخ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا اور وہ اٹھارہ اکتوبر کو ہی پاکستان آئیں گی۔

دبئی میں بینظیر بھٹو سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امین فہیم کا کہنا تھا کہ بینظیر نے اپنے ساتھیوں سے مشورے کے بعد واپسی کی تاریخ میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے بینظیر بھٹو سے واپسی میں تاخیر کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ درخواست نہیں کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ اگر ایسی کوئی درخواست کی جاتی ہے تو اس کا کیا جواب دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے جمعرات کی صبح بی بی سی کو بتایا تھا کہ پیپلز پارٹی نےحکومت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو ہی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا تھا حکومت نے باضابطہ طور پر بینظیر بھٹو کو اٹھارہ اکتوبر کی مجوزہ وطن واپسی ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کسی بیرونی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے ملک کے ذرائع کی معرفت بینظیر بھٹو کو وطن واپسی ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔‘

بینظیر بھٹو نے حکومت سے مذاکرات کے بعد اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی کا اعلان کیا ہے اور ان کی واپسی کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ سابق وزیراعظم کے آبائی صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں روزانہ ’ویلکم بینظیر، کے عنوان سے جلوس نکالے جاتے ہیں اور ان کی جماعت خوشیاں منا رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما نے کہا اگر اب بینظیر بھٹو نے اپنی واپسی ملتوی کردی تو کارکن شدید مایوس ہوں گے اور ان کی واپسی کے جوش و خروش کا ٹیمپو بھی ٹوٹ جائے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے خود کو آرمی چیف رہتے ہوئے صدر منتخب کروانے کے خلاف آئینی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے گیارہ رکنی بینچ قائم کردیا ہے جو سترہ اکتوبر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع کرے گا۔

اسی بارے میں
سرحد اسمبلی تحلیل کردی گئی
10 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد