BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 October, 2007, 22:57 GMT 03:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سزاؤں کی منسوخی پر فیصلہ محفوظ

 بےنظیر بھٹو
بےنظیر بھٹو کے خلاف نیب عدالت میں پانچ مقدمے زیرِ سماعت ہیں
لاہور ہائی کورٹ نے ڈویژن بنچ نے بےنظیر بھٹو کو ان کی غیر حاضری میں احتساب عدالت سے سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم دینے کے بارے میں اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

ادھر بےنظیر بھٹو، آصف علی زرداری، ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰن ملک اور وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت اپنے خلاف احتساب عدالت میں زیرِ سماعت بدعنوانی کے مقدمات خارج کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

قومی احستاب بیورو کے وکیل نے عدالت کو کہا تھا کہ ان کاادارہ نئے جاری کردہ آرڈیننس کے تحت بے نظیر کےخلاف ریفرنس پہلے ہی واپس لے چکا ہے۔
راولپنڈی کی احتساب عدالت نے بے نظیر بھٹو کی غیر موجودگی میں اے آر وائی گولڈ، ایس جی ایس اور اثاثہ جاتی کیس میں ان کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے انہیں تین تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

بے نظیر کے وکلاء نے لاہور ہائی کورٹ میں ان سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کررکھی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس بلال خان اور جسٹس طارق شمیم پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبرو جمعرات کو بے نظیر کے وکیل احسن بھون دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بےنظیر کو ان کی غیر موجودگی میں سزا آئین کے آرٹیکل نو اور دس کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے سزائے موت میں بری ہونے والے والے محرم علی شاہ کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں بھی ملزم کی عدم موجودگی میں سنائی گئی سزا کالعدم قرار دی تھی۔

بے نظیر کے وکیل نے وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے خلاف کیس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جب انہیں سزا سنائی گئی تھی تو وہ ملک سے باہر تھے اور اسی بنیاد پر ان کی سزا بھی ختم کر دی گئی تھی۔احسن بھون ایڈووکیٹ نے کہا کہ بےنظیر سنہ انیس سو اٹھانوے میں جب بیرون ملک گئی تھیں تو انہوں نے ہائی کورٹ کی اجازت لی تھی۔

قومی احتساب بیورو کی جانب سے علی ٹیپو ایڈووکیٹ نے کہا کہ نئے آرڈیننس کے تحت ان کا ادارہ پہلے ہی بے نظیر کے خلاف کیس واپس لے چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس لیے بے نظیر کے وکلاء کو اپنی اپیل واپس لے لینی چاہیے۔بے نظیر کے وکلاء نے اپیل واپس نہیں لی اور عدالت سے فیصلے کی استدعا کی۔سرکاری وکیل نے کہا کہ اگر عدالت سزائیں کالعدم قرار دینے کی بے نظیر کی اپیل منظور کر لیتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا جس پر عدالت نے اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

 راولپنڈی کی احتساب عدالت نے بے نظیر بھٹو کی غیر موجودگی میں اے آر وائی گولڈ، ایس جی ایس اور اثاثہ جاتی کیس میں ان کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے انہیں تین تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔

دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق نائیک نے بےنظیر بھٹو اور ان کے رفقاء کی جانب سے جبکہ آفتاب شیر پاؤ کی جانب سے پنجاب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل چوہدری مشتاق احمد خان نے بدعنوانی کے مقدمات خارج کرنے کی درخواست راولپنڈی کی احتساب عدالت میں جمع کروائی۔

عدالت نے مقدمے کے مدعی ’نیب‘ سے جواب طلب کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کے مقدمات میں سماعت جمہ کے روز تک، زرداری کے مقدمے میں انیس اکتوبر اور آفتاب شیر پاؤ مقدمے کی سماعت سترہ اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

بےنظیر بھٹو کے خلاف نیب عدالت میں پانچ جبکہ آصف زرداری کے خلاف تیرہ مقدمات زیر سماعت ہیں۔اس وقت کی حزب اختلاف کے ان رہنماؤں پر بدعنوانی کے یہ مقدمات نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں قائم کیےگئے تھے۔

واضح رہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد نیب نے اپنی ویب سائیٹ سے عدالتوں میں زیر سماعت تمام مقدمات کی تفصیل ہٹا دی ہے۔

اسی بارے میں
مصالحتی آرڈیننس، سب کے مزے
05 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد