BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 October, 2007, 09:09 GMT 14:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی مفاہمتی آرڈیننس، مشروط

جسٹس افتخار
’ہم کسی فرد کے خلاف نہیں ہیں، ہمیں صرف قانون کا جائزہ لینا ہے‘
سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس سنہ دو ہزار سات کے تحت کیے گئے تمام فیصلے اور اقدامات کو اس آرڈیننس کے خلاف دائر ہونے والی درخواستوں کے حتمی فیصلے کے ساتھ مشروط کردیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے مختصر حکم میں کہا ہے کہ اگر ان آئینی درخواستوں کی مکمل سماعت کے بعد عدالت یہ قرار دے کہ یہ آرڈیننس غیر آئینی ہے تو پھر کوئی شخص اس سے مستفید نہیں ہو سکے گا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل، فیڈریشن اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔
واضح رہے کہ اس آرڈینینس کے خلاف پانچ آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں جن میں ڈاکٹر مبشر حسن، سابق بیوروکریٹ روئیداد خان، قاضی حسین احمد، اسلم خاکی اور طارق اسد کی دائر کردہ پٹیشنیں شامل ہیں۔

عدالت نے ان آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران تین نامور قانون دانوں کو بطور معاون عدالت میں طلب کیا ہے۔ ان میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں اللہ نواز، سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج شائق عثمانی اور سابق اٹارنی جنرل سردار خان شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے گا۔ عدالت نے ان آئینی درخواستوں کی سماعت تین ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔

درخواست گزار ڈاکٹر مبشر حسن کے وکیل سلمان اکرم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس عوامی عہدوں کے لیے لایا گیا ہے اور یہ عوام کے لیے نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے تحت پرانے مقدمات اور ایسے مقدمات کو جو نیب آرڈیننس کے تحت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، واپس لیا جائے گا اور انہیں رویو بورڈ کے حوالے کیا جائے گا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹے مقدمات کا تعین کرنا عدالت کا کام ہے رویو بورڈ کا نہیں۔

سلمان اکرم نے کہا کہ آئین کے تحت کرپشن کے الزام میں سزا پانے والا شخص انتحابات میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کسی قانون ساز کو ایسی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا جس کے تحت عوام کے حقوق غصب کرنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک امتیازی قانون ہے اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو آپریشنل ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ رویو بورڈ میں جو لوگ شامل کیے جائیں گے وہ حکومت کے ملازمین اور من پسند افراد ہوں گے۔

روئیداد خان کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس ایسے وقت پر جاری کیا گیا جب صدارتی انتخابات ہونے جا رہے تھے اور صدر نے اسے اپنے مفاد میں استعمال کیا ہے اس لیے یہ آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ادارے ایسے ہوتے ہیں جن کو عزت دینا پڑتی ہے چاہے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔

درخواست گزار کے وکیل نے اس آرڈیننس کے بارے میں سیاسی بیانات کا بھی حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت درخواستوں پر فیصلے سیاسی بیانات کی روشنی میں نہیں بلکہ آئین کو مدنظر رکھ کر کرتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس قوم کی دولت لوٹنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پولٹیکل جسٹس اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے اجراء سے پاکستان نے کرپشن کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس کنونشن پر نو دسمبر دو ہزار تین کو دستخط کیے تھے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ کے سامنے اپنی غیر حاضری میں احتساب عدالت سے سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دے رکھی ہے جس پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔

دوسری طرف بےنظیر بھٹو، آصف علی زرداری، ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رحمٰن ملک اور وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت اپنے خلاف احتساب عدالت میں زیرِ سماعت بدعنوانی کے مقدمات خارج کرنے کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف’مصالحت کا قانون‘
ماہرینِ قانون کی مصالحتی آرڈیننس پر رائے منقسم
نیب لوگومصالحتی آرڈیننس
مصالحت سے کون کون رہے گا فائدے میں؟
جسٹس افتخار ’انصاف کی خاطر‘
جسٹس افتخار ہر قربانی دینے کو تیار: اہلخانہ
اضافی نوٹ
جنرل مشرف انتخاب نہیں لڑسکتے:جسٹس فلک شیر
جسٹس افتخار’پیپلز چیف جسٹس‘
کیا بڑھی ہوئی عوامی توقعات سے انصاف ہوگا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد