BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 February, 2008, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصالحتی آرڈیننس سے فائدہ کسے ہو رہا ہے؟

 احتساب بیورو
آرڈیننس کے تحت مقدمات بنانے والے احتساب بیورو کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکے گی
قومی مصالحتی آرڈیننس یکم جنوری انیس سو چھیاسی سے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے تک درج ہونے والے مالی بدعنوانیوں یا نیب کے مقدمات اور اسی عرصے میں پولیس تھانوں پر درج ہونے والے فوجداری جرائم کے مقدمات کا احاطہ کرتا ہے۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار علی بھٹہ کا کہنا ہے کہ این آر او کے دائرہ اثر میں آنے والے بدعنوانیوں کے مقدمات کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور ان کے خاتمے سے صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ سابق فوجی اور سول سرکاری ملازمین اور سابقہ مخلوط حکومت میں شامل وزراء کو بھی فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ’ان مقدمات میں صرف یہی نہیں بلکہ مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین اور سابق وزراء بھی شامل ہیں تو بارہ اکتوبر 1999ء سے پہلے جن کے خلاف کرپشن کے مقدمات میں تفتیش شروع ہوئی تھی وہ سارے اس سے فائدہ اٹھاسکیں گے‘۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کو اس آرڈیننس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ ان کے خلاف داخل مقدمات این آر او میں دی گئی مدت کے بعد داخل ہوئے تھے‘۔

انہوں نے بتایا کہ آصف زرداری کے خلاف اس وقت نیب کے چھ اور ان کے سکیورٹی ایڈوائزر رحمان ملک پر دو مقدمات ہیں جو اب ختم ہوسکتے ہیں۔تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف کرپشن کے صرف تین مقدمات ہیں جن پر این آر او کا اطلاق ہوتا ہے۔

ان کے مطابق’ایک کیس آصف زرداری، ایک یوسف رضا گیلانی اور ایک جہانگیر بدر کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے کسی اور رہنما کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں‘۔

 این آر او کے مطابق جو مقدمات ختم ہو رہے ہیں وہ دوبارہ کبھی نہیں کھولے جائیں گے جبکہ سیاسی انتقام کی بنا پر جو بھی جھوٹے مقدمات ختم ہوں گے، وہ مقدمات بنانے والے احتساب بیورو یا کسی سرکاری ادارے کے ملازم کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’این آر او کے تحت زیادہ کیس ایم کیو ایم کے ہیں، نمبر دو قاف لیگ کے ہیں، نمبر تین بیوروکریسی، نمبر چار پیپلز پارٹی، نمبر پانچ فوج بشمول دو جنرل اور ایک سابق نیول چیف، نمبر چھ اے این پی، نمبر سات ایم ایم اے اور نمبر آٹھ نیب کے وہ اہلکار جو لوگوں کو بلیک میل کرکے رشوتیں لیتے ہوئے پکڑے گئے اور نمبر نو دیگر متفرق افراد، بتیس تو وزیر ایسے تھے جن کے خلاف کیسز تھے‘۔

قانونی ماہرین کے مطابق این آر او میں لکھا ہے کہ اس کے نفاذ کے ساتھ ہی بارہ مئی 1999ء سے پہلے درج ہونے والے نیب کے تمام زیرسماعت اور زیرتفتیش مقدمات ازخود ختم ہوجائیں گے جبکہ فوجداری مقدمات پر نظرثانی کے لیے صوبوں میں الگ الگ ریویو بورڈ قائم ہوں گے جو ایسے مقدمات کا جائزہ لے کر انہیں ختم یا قائم رکھنے کی سفارش کریں گے۔

سندھ میں قائم ہونے والے ایسے ہی رویو بورڈ کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے نے پانچ ہزار فوجداری مقدمات کا جائزہ لیا اور ان میں سے بیشتر کو ختم کرنے کی سفارش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ’ارباب صاحب جب وزیراعلٰی تھے اس وقت تک ہم نے تقریباً پونے پانچ ہزار مقدمات کا جائزہ لے کر انہیں واپس لینے کی سفارش کی تھی جو ختم ہوگئے تھے۔ ان میں مختلف جماعتوں کے لوگوں کے مقدمات تھے، کچھ مہاجر قومی موومنٹ کے لوگوں کے تھے اور کچھ جئے سندھ قومی محاذ کے بھی تھے لیکن زیادہ تر کیس متحدہ قومی موومنٹ کے تھے‘۔

واضح رہے کہ این آر او کے مطابق جو مقدمات ختم ہو رہے ہیں وہ دوبارہ کبھی نہیں کھولے جائیں گے جبکہ سیاسی انتقام کی بنا پر جو بھی جھوٹے مقدمات ختم ہوں گے، وہ مقدمات بنانے والے احتساب بیورو یا کسی سرکاری ادارے کے ملازم کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔

اسی بارے میں
مصالحتی آرڈیننس، سب کے مزے
05 October, 2007 | پاکستان
جہانگیر درخواست نیب کے پاس
29 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد