عدلیہ کی بحالی پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے نئی وفاقی حکومت کی تشکیل کے ایک ماہ کے اندر پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعےعدلیہ کوگزشتہ برس دو نومبر کی حالت میں بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس مقصدکے لیئے آج دونوں جماعتوں کے قائدین نے "اعلان مری" پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اس بات کا اعلان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اتوار کی سہ پہر سیاحتی مقام بھوربن کے ایک ہوٹل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔میاں نواز شریف نے بتایا کہ 18 فروری کے انتخابات میں عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو مینڈیٹ دیا کہ وہ مل کر کام کریں اور ملک کو بحران سے نکالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو دونوں جماعتوں کا یہ فیصلہ تاریخی ہے۔ ’اسی دن عدلیہ کو ہٹانے کی کوشش کی گئی اور ایک برس بعد اسی دن اسے بحال کرنے کا فیصلہ اہم ہے۔‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس سے قبل مری میں ہونے والے مذاکرات میں پیپلز پارٹی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے چاروں ممکنہ امیدوار شریک نہیں ہوئے۔
مخدوم امین فہیم کی غیرموجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ان رہنماؤں کومدعو کیا گیا تھا لیکن وہ مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکے۔ ’یہ کمیٹی ان کے لیئے بہت چھوٹی تھی۔‘ اتوار کو نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان حکومت سازی اور دیگر امور پر یہاں تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جو کہ نصف گھنٹہ سے زائد تک جاری رہی۔ ملاقات میں میاں محمد نواز شریف کے ہمراہ راجہ ظفر الحق ،خواجہ آصف ،سردار مہتاب ، اسحاق ڈار اور چوہدری نثار خان جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری کے ہمراہ میاں رضا ربانی ،فرحت اللہ بابر، شیری رحمن اور صفدر عباسی اور خورشید شاہ شامل تھے ۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مذاکراتی کمیٹیوں کی رپورٹس کا جائزہ لیا اور تمام امور اتفاق رائے سے طے کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں حکومت سازی کے حوالہ سے مختلف امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ قومی اتفاق رائے کی حکومت کی تشکیل کیلئے تمام جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیے کے متن کے مطابق جمہوری قوتوں کو دیئےگئے مینڈیٹ کو عملی صورت دینے کیلئے ایک جمہوری پاکستان کیلئے مخلوط حکومت تشکیل دینے کا وعدہ کرتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان آج ہونے والی سربراہ ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ معزول ججوں کو وفاقی حکومت کی تشکیل کے 30 روز میں قومی اسمبلی میں ایک پارلیمانی قرارداد کے ذریعے 2 نومبر 2007ءکی پوزیشن میں بحال کیا جائے گا۔ مری میں ہونے والی سربراہ کانفرنس کے بعد اعلان کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) مرکزی حکومت میں شامل ہوگی اور اسی طرح پیپلز پارٹی پنجاب حکومت کا حصہ بنے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدے پاکستان مسلم لیگ نون کے پاس رہیں گے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدے اسی جماعت کو دینے جو مرکز یا پنجاب میں حکومت بنائے گی کا فیصلہ ان حکومتوں کو مستقبل میں تحلیل اور سازشوں سے بچانے کی خاطر کیا ہے۔
میاں نواز شریف نے اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ دونوں وزارت عظمیٰ کے لیے ایسے امیدوار کو سامنے لایا جائے جو مشترکہ مینڈیٹ کو آگے لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اسمبلی کو تحلیل کرنے کے صدارتی اختیار کے حوالے سے سوال پر میاں نواز شریف نے کہا کہ میثاق جہموریت کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس پر عمل کیا گیا تو انیس تہتر کا آئین اپنی اصلی شکل میں نافذ ہو سکے گا۔ نواز شریف نے اپنے وزیروں کا صدر مشرف سے حلف لینے سے حوالے سے کہا کہ ’نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ کرنا پڑے گا۔‘ وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی نامزدگی میں تاخیر کے حوالے سے آصف زرداری نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ میڈیا کی توجہ ان سے ہٹ جائے۔نئی حکومت کی طرف سے عوام کو پہلے تحفے کے حوالے آصف زرداری نے کہا کہ حکومت کا پہلا تحفہ پیمرا آرڈینس کے ذریعے میڈیاپر لگائی گئی پابندیوں کا خاتمہ ہو گا۔ ڈاکٹر قدیر کی رہائی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ یہ سوال سابق حکومت سے کیا جانا چاہیے۔ صدر پرویز مشرف کے مستقبل کے حوالے سے آصف زرداری نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہر کوئی اپنے دائرہ کار میں کام کرے گا۔ البتہ نواز شریف نےصدر پرویز مشرف کے حوالے اپنا سخت موقف برقرار رکھتے ہوئے کہ عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت نافذ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو پاکستان جو ملے گا اس میں ملک میں آٹا نہیں مل رہا اور ملک میں روزانہ خود کش حملے ہو رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کے باوجود صدر پرویز مشرف احسان جتا رہے کہ وہ ٹرانسفر آف پاور کر رہے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور سید افضل حیدر کی طرف سے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو کو ارسال کردہ سمری نگران وزیراعظم پیر کو باضابطہ طور پر صدر مملکت کو بھجوا دیں گے۔ سید افضل حیدر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے نومنتخب ارکان کے نوٹیفیکیشن کی اطلاع کے بعد سمری وزیراعظم کو بھجوا دی گئی جس میں ان سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیئے درخواست کی گئی ہے تاکہ عام انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان حلف اٹھا سکیں اور اس کے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ پیر سے شروع ہونے والے ہفتے میں کسی وقت صدر پرویز مشرف نومنتخب قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب کرنے کا اعلان کر دیں گے۔ ادھر، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ججز کالونی کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں روکنے کے لیئے آنسو گیس اور لاٹھ چارج کیا۔ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والی دونوں جماعتوں نے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ادھر مخدوم امین فہیم نے آصف علی زرداری کے بیان پر کہ وہ ذاتی مصروفیت کی بنیاد پر اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا نام مذاکراتی کمیٹی میں شامل نہیں تھا جس وجہ سے وہ مری نہیں گئے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام دن فارغ تھے۔’میں نے زرداری صاحب سے کہا کہ کہ وہ انہیں بتائیں یہ غلط معلومات انہیں کس نے دی تھی۔‘ |
اسی بارے میں ’ورکنگ ریلیشن شپ، تعین پارلیمان کرے گی‘26 February, 2008 | پاکستان پنجاب: دو تہائی اکثریت کا مظاہرہ08 March, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی اختلافات کا شکار08 March, 2008 | پاکستان ’ امریکہ کی خاطر مروایا جا رہا ہے‘ 02 March, 2008 | پاکستان پی پی کی ترجیحات کا اعلان22 February, 2008 | پاکستان بلوچستان: پی پی پی کی واضح اکثریت08 March, 2008 | پاکستان صدر کے استعفے کا مطالبہ25 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||