BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 March, 2008, 23:36 GMT 04:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب: دو تہائی اکثریت کا مظاہرہ

 مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کے رہنما
مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ان کی حلیف جماعتیں جس دن حلف اٹھائیں گے اسی دن سے صوبے کی عوام کی خدمت کریں گے:شہباز شریف

مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے پنجاب میں حکومت سازی کے لیے دوتہائی اکثریت کا مظاہرہ کردیا ہے اور دونوں جماعتوں نے صوبہ میں مخلوط حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب سے نومنتخب ارکان اسمبلی کی عددی قوت کا مظاہرہ مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں کیا گیا جس میں مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ مجلس عمل کے نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔

عوامی توقعات
اگر ہم عوام کی توقعات پر پورا نہ اترے توپھر خدا اور عوام دونوں کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔
شہباز شریف
مسلم لیگ(ن) پنجاب کے سیکرٹری جنرل راجہ اشفاق سرور نے اعلان کیا کہ عشائیہ میں چاروں جماعتوں کے دو سو چوہتر نومنتخب ارکان نے شرکت کی۔

ان کے بقول عشائیہ میں مسلم لیگ نواز کے ایک سو پینسٹھ، پیپلزپارٹی کے ایک سو پانچ میں سے ایک سو تین، مسلم لیگ فنکشنل کے چار اور متحدہ مجلس عمل کے دو ارکان شامل ہوئے۔

پنجاب اسمبلی کا ایوان تین سو تہتر ارکان اسمبلی پر مشتمل ہے اور دو تہائی اکثریت کے لیے دو سو پنتالیس ارکان کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ مجلس عمل کی پارلیمانی پارٹیوں کے ارکان کے اعزاز میں مقامی ہوٹل میں عشائیہ کا اہتمام کیا تھا۔

’پی پی پی کو پیشکش ہوئی تھی‘
 پیپلزپارٹی کو پنجاب میں حکومت سازی کی دعوت اور وزارت اعلیْ کی پیشکش کی گئی تھی اور یہ بھی بتایا گیا کہ پارٹی کے پاس جتنی عددی اکثریت ہے اس میں مسلم لیگ قاف اور چند آزاد ارکان کو شامل کرنے سے پیپلز پارٹی کی حکومت بن کرسکتی ہے۔ پی پی پی نے یہ پیشکش مسترد کر دی ہے۔
شاہ محمود قریشی
عشائیہ سےمسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں ایسی جماعتیں حلیف بن رہی ہیں جو ماضی میں حریف رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم عوام کی توقعات پر پورا نہ اترے توپھر خدا اور عوام دونوں کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ میثاق جمہوریت انیس سو تہتر کے آئین کے بعد سب سے اہم دستاویز ہے۔ان کے بقول مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور ان کی حلیف جماعتیں جس دن پنجاب اسمبلی میں حلف اٹھائیں گے اسی دن سے صوبے کی عوام کی خدمت کریں گے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں حکومت سازی کی دعوت اور وزارت اعلیْ کی پیشکش کی گئی تھی اور یہ بھی بتایا گیا کہ پارٹی کے پاس جتنی عددی اکثریت ہے اس میں مسلم لیگ قاف اور چند آزاد ارکان کو شامل کرنے سے پیپلز پارٹی کی حکومت بن کرسکتی ہے۔ان کے بقول پی پی پی نے یہ پیشکش مسترد کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے یہ موقف ہے کہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ پنجاب میں مینڈیٹ کس کے پاس ہے اور پیپلز پارٹی اسی مینڈیٹ کا احترام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں جماعتوں کو یہ عزم کرنا ہے کہ ملک میں سے لوٹا کریسی کو خاتمہ ہو۔
عشائیہ سے مسلم لیگ فنکشنل پنجاب کے صدر مخدوم محمود احمد نے بھی خطاب کیا۔

قبل ازیں پیپلز پارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نومنتخب رکن پنجاب اسمبلی راجہ ریاض کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں پیپلز پارٹی کے نومنتخب ارکان اسمبلی کے علاوہ صوبائی قیادت اور سابق ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔

’لوٹاکریسی کا خاتمہ کریں گے‘
 پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے یہ موقف ہے کہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ پنجاب میں مینڈیٹ کس کے پاس ہے اور پیپلز پارٹی اسی مینڈیٹ کا احترام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں جماعتوں کو یہ عزم کرنا ہے کہ ملک میں سے لوٹا کریسی کو خاتمہ ہو۔
شاہ محمود قریشی
پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے تعارفی اجلاس کے بعد شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز کے ساتھ پنجاب میں مخلوط حکومت بنائے گی۔ ان کےبقول پیپلز پارٹی اسمبلی اور حکومت کے اندر اپنا کردار ادا کرے گی اور مخلوط حکومت میں شامل ہوکر ذمہ داریاں بانٹیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی پنجاب اسمبلی میں عددی تعداد ایک سو پانچ ہے تاہم پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں دو ارکان ذاتی وجوہات کی بنا پر شرکت نہ کر سکے۔ ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز کی خواہش پر حکومت میں شامل ہورہی ہے اور یہ خواہش کرتی ہے کہ وفاق میں مسلم لیگ نواز بھی حکومت میں شامل ہو۔

انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت میں شراکت اقتدار کے طریقہ طے کرنے کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی میں وزیر اعظم کی نامزدگی کے معاملہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ پارٹی کے چیئرمین مشاورت کے بعد وزیراعظم کے منصب کے لیے امیدوار کا اعلان کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر کسی عہدے کے خواہش مند نہیں ہیں ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ ان کی جماعت کرے گی کہ وہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں سے کونسی سے نشست خالی کرتے ہیں۔

مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ مجلس عمل نے صوبہ پنجاب میں مخلوط حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان مسلم لیگ نواز کی طرف سے دیئے گئے ایک عشائیہ میں کیا گیا جس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ مجلس عمل کے نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی نے شرکت کی۔

آصف زرداریمنتقلی اقتدار میں دیر
عوامی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟
کنور دلشادانتخابی نتائج
الیکشن کمیشن نےنتائج کا اعلان کر دیا
بگٹی پناہ گزیننئی حکومت کا چیلنج
کیا بگٹی پناہ گزینوں کے حالات بدلیں گے؟
اسفندیار ولیسرحد کا سیاسی منظر
’اتحاد کوئی بھی وزارتِ اعلٰی اے این پی کی‘
اسفندیار ولیاے این پی سندھ میں
سندھ میں پختونوں کی پہلی بار دو سیٹیں
سندھ یا مسائلستان
حکومت سازی اور آئندہ چیلنجز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد