بگٹی پناہ گزینوں کےحالات بدلیں گے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں نئی قائم ہونے والی حکومت کو مبینہ فوجی کارروائی روکنے اور لاپتہ افراد اور گرفتار سیاسی قائدین اور کارکنوں کی رہائی کے علاوہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے ان پناہ گزینوں کو اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے جو اس وقت سبی، ڈیرہ مراد جمالی اور سندھ کے علاقوں میں کھلے آسمان کے تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ گزشتہ دنوں شدید سردی کی لہر کے دوران ان پناہ گزینوں کے کم سے کم چار بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ یاد رہے سابقہ دور حکومت میں غیر سرکاری تنظیموں کو ان افراد کی مدد نہیں کرنے دی گئی تھی۔ محمد اشفاق ڈیرہ بگٹی میں دسویں جماعت میں پڑھ رہے تھے، لیکن دسمبر دو ہزار پانچ میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی کے بعد محمد اشفاق کا خاندان ڈیرہ اللہ یار کے مضافات میں پھٹی پرانی جھونپڑیوں میں سر چھپائے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کی تعلیم کا سلسلہ رک گیا ہے۔ محمد اشفاق نے بتایا کہ ان کے سکول کے تمام بچے اور استاد ڈیرہ بگٹی چھوڑ کر مختلف علاقوں میں رہ رہے ہیں۔ بچوں نے تعلیم چھوڑ کر محنت مزدوری شروع کر دی ہے۔ ڈیرہ اللہ یار کے قریب جھونپڑیوں میں بڑی تعداد میں لوگ زندگی گزار رہے ہیں لیکن پچاس سے ساٹھ افراد کے ایک خاندان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ایک خاندان کے کم سے کم چار بچے حالیہ شدید سردی کی لہر کے دوران ہلاک ہو گئے۔ ایک پناہ گزین نور محمد بگٹی نے بتایا کہ انہیں مقامی لوگ مزدوری بھی پوری نہیں دیتے اور پولیس انہیں بگٹی کے نام کی وجہ سے تنگ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بچوں کو ہسپتال علاج کے لیے نہیں لے جا سکتے، وہاں مختلف قسم کے سوال کیے جاتے ہیں اور بگٹی کا نام سنتے ہی انہیں علاج کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ بچے اگر بیمار ہوتے ہیں تو بس ادھر جھونپڑی میں اپنے ٹوٹکے کرتے ہیں۔ صحت یاب ہوگیا تو ٹھیک ورنہ موت تو مقدر ہے۔‘ عبدالجبار نامی شخص بی اے پاس ہے اور اب دن کے وقت مزدوری کرتا ہے اور شام کے وقت ان جھونپڑیوں میں آباد بچوں کو پڑھاتا ہے۔عبدالجبار کے مطابق کبھی زمینوں پر مزدوری تو کبھی لوڈنگ کا کام مل جاتا ہے، جس سے بچوں کو روٹی مل جاتی ہے۔
بلوچستان کے نگراں وزیر اعلی سردار صالح بھوتانی کے مطابق یہ لوگ خود اپنی مرضی سے بےگھر ہوئے ہیں۔’ان کے اپنے مسائل تھے اس لیے حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں ہے اور جو کچھ حکومت سے ہو رہا ہے وہ ان کے لیے کر رہی ہے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان لوگوں کو درپیش مسائل کے بارے میں انہیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ سابقہ دور حکومت میں غیر سرکاری تنظیموں نے ان لوگوں کی مدد کرنا چاہی لیکن حکومت نے منع کر دیا تھا۔ بلوچستان اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کی سربراہی میں کمیٹی ان علاقوں کو بھیجی گئی تھی جس میں سرکاری اہلکاروں نے شرکت نہیں کی لیکن بقول کچکول علی ایڈووکیٹ کے، ’ آج سے دو سال پہلے تک اسی ہزار افراد بےگھر ہو چکے تھے لیکن اب کچھ لوگ جن میں سرکاری ملازمین کی تعداد زیادہ ہے، واپس ڈیرہ بگٹی چلے گئے ہیں۔‘ بلوچستان میں نئی قائم ہونے والی حکومت کے دیگر مسائل کے علاوہ ان پناہ گزینوں کو دوبارہ اپنے علاقوں میں آْباد کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ |
اسی بارے میں بلوچستان:توقعات اور مسائل24 February, 2008 | پاکستان پی پی پی:سب کی طرف سے بلوچوں سےمعافی 24 February, 2008 | پاکستان معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان چھ ’ہم خیالوں‘ کا فارورڈ بلاک26 February, 2008 | پاکستان بے بس و بے گھر مہاجر بلوچ04 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||