عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کوئٹہ |  |
 | | | پاکستان مسلم لیگ کے سابق وزیرِاعلیٰ جام یوسف |
بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے قائدین نے ایک طرف پیپلز پارٹی اور دوسری جانب مسلم لیگ قائد اعظم سے بیک وقت مذاکرات شروع کر رکھے ہیں۔ جحب کے آزاد گروپ کے اراکین یکساں مؤقف اختیار کرنے پر راضی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے قائدین تاحال کوئی متفقہ پارلیمانی لیڈر کا انتخاب نہیں کر پائے اور اس وقت چار امیدوار میدان میں ہیں جنہوں نے آزادانہ طور پر اور اپنی جماعت کے اندر بھی اکثریت حاصل کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہیں۔ ادھر آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کے دو اجلاس ہو چکے ہیں جن میں مزید بات چیت جاری رکھنے کے لیے اتفاق پایا گیا ہے۔ آزاد گروپ کے ایک رہنما سردار اسلم بزنجو کے مطابق اب تک جو مذاکرات ہوئے ہیں اس میں بلوچستان کو در پیش مسائل پر بات چیت ہوئی ہے اور اس بات پر سب متفق نظر آئے کہ ان لوگوں سے ہرگز بات چیت نہیں کی جائے گی جو بلوچستان میں فوجی آپریشن، نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکت میں ملوث رہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے قائدین نے ایک طرف پیپلز پارٹی سے اور دوسری جانب مسلم لیگ قائداعظم سے مذاکرات شروع کر رکھے ہیں  | وزارتِ اعلیٰ کے لیے آزاد رکن  آزاد رکن کو وزیراعلی منتخب کرانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بلوچستان کے حوالے سے اپنی سابقہ پالیسیوں کا تسلسل چاہتے ہیں  |
اور ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جمعیت اور پیپلز پارٹی کے مابین بلوچستان میں کئی نکات پر معاملات طے پاگئے ہیں جبکہ دیگر مسائل پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔ ادھر ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ کسی آزاد رکن کو وزیراعلی منتخب کرانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بلوچستان کے حوالے سے اپنی سابقہ پالیسیوں کا تسلسل چاہتے ہیں۔ |