BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 February, 2008, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست

 سردار عطاءاللہ مینگل
سردار عطاءاللہ مینگل نے پیپلز پارٹی کے اس رویے کو اچھا قرار دیا ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بلوچ قوم سے معافی مانگنے کی قرار داد کو بلوچ قوم پرست جماعتوں نے مثبت قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ادھر کوہلو کے قریبی علاقوں سے لوگوں نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کیا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل نے پیپلز پارٹی کے اس رویے کو اچھا قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔


سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا ہے کہ صرف معافی مانگنے سے کام نہیں ہوگا جب تک بلوچوں کو یہ یقین نہ دلایا جائے کے امن کے قیام حالات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن ان کے بقول انہیں ایسا نہیں لگتا کہ کوئی بھی حکومت بلوچستان کا مسئلہ حل کر پائے گی۔

نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی کے مطابق پیپلز پارٹی حالات کو سمجھتے ہوئے بلوچستان کے مسائل کا حل ضرور نکالے گی لیکن صرف ایک جملے سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ فوجی کارروائیاں روکنا ہوں گی، سردار اختر مینگل سمیت دیگر گرفتار افراد ہو رہا کرنا ہوگا، لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانا ہوگا اور بے گھر افراد کو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آباد کرنا ہوگا۔

کوہلو کے ضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اس بیان سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بلوچوں کا موقف درست ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سن دو ہزار تین میں جب صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کوئٹہ آئے تھے تو انہوں نے ماضی کی حکومتوں کی زیادتیوں کی معافی مانگی تھی لیکن دو سال بعد ان کے دور میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی

صرف ایک جملے سے نہیں
 پیپلز پارٹی حالات مسائل کا حل ضرور نکالے گی لیکن صرف ایک جملے سے نہیں۔ فوجی کارروائیاں روکنا ہوں گی، سردار اختر مینگل سمیت دیگر گرفتار افراد ہو رہا کرنا ہوگا، لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانا ہوگا اور بے گھر افراد کو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آباد کرنا ہوگا
جان محمد بلیدی
کارروائی شروع کر دی گئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ کارروائی فراری کیمپوں اور ان لوگوں کے خلاف کی جا رہی ہے جو بم دھماکوں راکٹ باری اور قومی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں۔

اس کے علاوہ کوہلو رکھنی اور بارکھان کے قریبی دیہاتوں میں سیکیورٹی فورسز نے مبینہ سرچ آپریشن شروع کیا ہے جس میں کم سے کم ایک شخص کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ تین درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

مری اتحاد کے ترجمان کے مطابق اس علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

ادھر ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سوئی کے قریب ایک گیس پائپ لائین اور سیکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے جس میں ایک اہلکار ہلاک اورچھ زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ پٹ فیڈر کے قریب ایک موٹر سائیکل بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے جس سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حملوں کی ذمہ داری اپنے آپ کو بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں
سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی
24 February, 2008 | الیکشن 2008
نئی حکومت: امید کی ایک کرن
23 February, 2008 | الیکشن 2008
سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم
21 February, 2008 | الیکشن 2008
نواز لیگ، پنجاب پر ہی زور دیا
22 February, 2008 | الیکشن 2008
حکومت سازی،ملاقاتیں شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد