BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 December, 2007, 10:34 GMT 15:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچستان میں عام معافی دی جائے‘

بینظیر
’دھاندلی ہوئی تو تحریک کی تیاری ابھی سے شروع کرنی ہوگی‘
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں عام معافی کا اعلان کیا جائے اورگرفتار سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

یہ بات انہوں نے منگل کی صبح دبئی سے اسلام آباد پہنچنے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن و امان کے قائم کرنے کے لیے ان کی جماعت کے پاس ایک پیکج ہے، جس کے تحت تعلیم اور ترقی کے ساتھ ساتھ وہاں عدالتوں کا قیام بھی شامل ہے۔

بینظیر کا کہنا تھا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو وہ بلوچستان میں عام معافی دے گی اور سیاسی کارکنوں کو بھی رہا کر دے گی۔ انہوں نے مسلم لیگ نواز کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اگر’وہ بائیکاٹ کرتے تو مسلم لیگ (ق) کا مقابلہ کرنے والی ایک جماعت کم ہوجاتی‘۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ’اگر آٹھ جنوری کو دھاندلی ہوئی تو نو جنوری سے تحریک کی تیاری ابھی سے شروع کرنی ہوگی‘۔

بینظیر بھٹو اسلام آباد پہنچنے کے بعد صوبہ سرحد کے شہر مردان کے لیے روانہ ہوگئی ہیں جہاں وہ اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں پہلے جلسۂ عام سے خطاب کرنے والی ہیں۔

پاکستان میں آٹھ جنوری کے مجوزہ انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں حزب مخالف کی انتخابی سرگرمیوں میں بھی آہستہ آہستہ کچھ تیزی آرہی ہے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف گزشتہ چند روز سے پنجاب میں جلسے کر رہے ہیں جبکہ بینظیر بھٹو بھی صوبہ سرحد کے شہر مردان میں جلسہ منعقد کر کے باضابطہ طور پر اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو صوبہ سرحد میں جلسے کے بعد اپنے آبائی صوبہ سندھ کا رخ کریں گی جہاں پروگرام کے مطابق وہ سترہ دسمبر کو حیدرآباد میں جلسہ سے خطاب کریں گی۔ حکومت نے بینظیر بھٹو کوگزشتہ ماہ راولپنڈی میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن اب انہوں نے عید کے بعد ستائیس دسمبر کو دوبارہ لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

باوجود اس کے کہ حزب مخالف کی اکثر جماعتوں نے اب اپنی انتخابی سرگرمیاں شروع کردی ہیں لیکن ماضی کے انتخابات جیسا ماحول، گہما گہمی اور ہلا گُلا تاحال نظر نہیں آرہا۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی انتخابی مہم ایک محدود پیمانے پر ہی چلے گی اور محدود وقت کی وجہ سے ماضی کی طرح کوئی بھی جماعت بھرپور انداز میں اپنی مہم نہیں چلا پائے گی۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ کی چھٹیاں بھی انتخابی مہم کو متاثر کریں گی اور جو بھی تھوڑا بہت ٹیمپو بنے گا وہ اس سے متاثر ہوگا۔

اسی بارے میں
بینظیر دبئی روانہ ہو گئیں
06 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد