پیپلز پارٹی کی معافی طلبی پر ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر معافی طلب کرنے کے عمل کا بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) ابھی جائزہ لے رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اب وہ صرف الفاظ پر یقین نہیں کریں گے بلکہ وعدے کرنے والوں کے عمل کا انتظار کریں گے۔ بی این پی یعنی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے اتوار کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سردار اختر جان مینگل کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو ختم کیا جائے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں کئی قراردادیں منظور ہوئیں جن میں بلوچستان میں فوجی کارروائی روکنے کے مطالبے کے علاوہ، اختر مینگل سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کی رہائی اور پولیس کی بجائے لیویز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا۔ قراردادوں میں پیپلز پارٹی نے پاکستانی عوام کی طرف سے بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کی معافی مانگتے ہوئے باہمی عزت و احترام اور حسنِ سلوک کا نیا باب شروع کرنے کا وعدہ کیا۔
بی این پی (مینگل گروپ) کی مرکزی کمیٹی کے رکن حمید ساجنا نے پیپلزپارٹی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی ہم اس بیان کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ گذشتہ آمروں کی طرح ان کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ حکومت بنانے کے بعد عملاً وہ کیا کرتے ہیں کیونکہ باتیں تو سب ہی کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال گذرنے کے باوجود سردار اختر مینگل کو رہا نہیں کیا گیا ہے ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے بلوچستان کے مظلوم عوام کے لیے آواز بلند کی تھی، دوسری جانب بلوچستان میں ظلم اور کئی علاقوں میں تشدد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور سینکڑوں بلوچ اب تک نہ صرف لاپتہ ہیں بلکہ قید میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد الیکشن تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ بلوچستان کی خودمختاری تک جاری رہے گی۔ حمید ساجنا نے سردار اختر مینگل کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کی رہائی کے لیے بلوچ پرامن جدوجہد کرتے رہیں گے چاہے انہیں اپنی جانوں کا نذرانہ ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑے۔ | اسی بارے میں سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی24 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی حکومت: امید کی ایک کرن23 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم 21 February, 2008 | الیکشن 2008 نواز لیگ، پنجاب پر ہی زور دیا22 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی،ملاقاتیں شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ21 February, 2008 | الیکشن 2008 نتائج روکنے، دوبارہ گنتی کے مطالبات 21 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||