BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیپلز پارٹی اختلافات کا شکار

مخدوم امین فہیم پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مرکز میں حکومت بنانے کے لیے طاقت کے بھرپور مظاہرے کے باوجود تاحال وزیراعظم کی نامزدگی نہ ہونے سے پارٹی کے اندر اضطرابی کیفیت کے بعد اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اختلافات کی چنگاری بھڑکنے والی ہے۔

مخدوم امین فہیم کی حالیہ دنوں میں بعض اعلیٰ انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتوں کے بعد ان کے آصف علی زرداری سے پیدا ہونے والے دبے ہوئے اختلافات اب کھل کر منظر پر آنے لگے ہیں۔

مخدوم امین فہیم نے آصف علی زرداری کی مشاورت کے بنا جہاں اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ کا اجلاس نو مارچ کو پیپلز پارٹی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے وہاں وزیراعظم کی نامزدگی میں تاخیر کے حوالے سے پارٹی کے شریک چیئرمین کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

اتوار کو پیپلز سیکریٹریٹ میں ’اے آر ڈی‘ کے اجلاس طلب کیے جانے کے بارے میں جب رابطہ کیا تو سیکریٹریٹ کے انچارج نے اجلاس منعقد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا اور لاعلمی ظاہر کی۔

بعض اطلاعات کے مطابق آصف علی زرداری کے بعض حامی اتوار کو مخدوم امین فہیم کے بلائے گئے اجلاس کو روکنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ لیکن اس بارے میں پیپلز پارٹی کا کوئی سرکردہ رہنما کچھ بتانے کے لیے تیار نہیں۔


مخدوم امین فہیم جو سنیچر کے روز کراچی میں رہے اور شام گئے اسلام آباد پہنچے، ان سے کئی بار فون پر رابطے کی کوشش کی لیکن وہ دستیاب نہیں ہوسکے۔

ایک مقامی انگریزی روز نامہ دی نیوز میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ ’وزیراعظم کے لیے نامزدگی میں غیر ضروری تاخیر سے پارٹی کے اندر افرا تفری پیدا ہو رہی ہے اور عوام میں بھی ان کے بارے میں تذلیل اور دھوکہ ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔‘

اخبار کے مطابق مخدوم امین فہیم نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پارٹی کو ٹکڑوں میں بٹنے سے اس وقت تک بچانے کی کوشش کریں جب تک بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی باگ دوڑ سنبھالیں۔

مخدوم امین فہیم کے اس بیان پر پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ ٹھنڈے مزاج کے مخدوم نے صبر کا دامن چھوڑنے میں عجلت کرتے ہوئے جو جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے اس سے مجھے خدشہ ہے کہ کہیں پارٹی اور خود مخدوم صاحب کو سیاسی نقصان ہوسکتا ہے۔‘

حالات کو اس نہج پر پہنچانے والے پیپلز پارٹی کے وہ ’نوزائدہ نام نہاد رہنما، ہیں جنہوں نے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد آصف علی زرداری اور مخدوم امین فہیم کے درمیان اختلافات کی آگ سلگائی اور اب اُسے پھونکیں مارکر بھڑکا رہے ہیں۔‘

کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اپنی زندگی کے جوبن پر وزیراعظم کی تین بار پیشکش ٹھکرانے والے مخدوم امین فہیم کی جانب سے عمر کے اس حصے میں عجلت برتنے یا جارحانہ رویہ اختیار کرنا محض جذبات کا اظہار ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی منظم فورس کی قابل بھروسہ کوئی یقین دہانی ہوگی۔

تجزیہ کاروں کی اس رائے کو پیپلز پارٹی کے بعض ذرائع کے ان خدشات سے بھی تقویت ملتی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ مخدوم امین فہیم اور انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتوں میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین، مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم پر مشتمل حکومتی اتحاد تشکیل دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما کا دعویٰ ہے کہ ’مخدوم امین فہیم کو مقتدر حلقوں نے باور کرایا ہے کہ قانونی طور پر پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر وہ ہی ہیں اور قانون کے مطابق ان کے فیصلے سے برعکس ووٹ دینے والے رکن قومی اسمبلی کو نا اہل کیا جاسکتا ہے۔‘

جبکہ مخدوم امین فہیم کے بعض حامی کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں وزیراعظم بننے کے لیے مخدوم کی پالیسی ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘ والی ہے۔ لیکن ان کے بقول حالات کو اس نہج پر پہنچانے والے پیپلز پارٹی کے وہ ’نوزائدہ نام نہاد رہنما، ہیں جنہوں نے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد آصف علی زرداری اور مخدوم امین فہیم کے درمیان اختلافات کی آگ سلگائی اور اب اُسے پھونکیں مارکر بھڑکا رہے ہیں۔‘

پیپلز پارٹی میں بظاہر کھل کر سامنے آنے والے اختلافات کے بارے میں میاں رضا ربانی سمیت اکثر پیپلز پارٹی کے رہنما فی الوقت ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں اور ایسا نظر آتا ہے کہ وہ ابھی ’دیکھو اور انتظار کرو، کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

اٹھارہ فروری کے انتحابات کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کو مرکزی حکومت بنانے کے لیے تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی بظاہر نظر آتا ہے کہ اقتدار کے فاصلے ابھی اور بھی ہیں۔

آصف زرداریمنتقلی اقتدار میں دیر
عوامی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟
کنور دلشادانتخابی نتائج
الیکشن کمیشن نےنتائج کا اعلان کر دیا
بگٹی پناہ گزیننئی حکومت کا چیلنج
کیا بگٹی پناہ گزینوں کے حالات بدلیں گے؟
اسفندیار ولیسرحد کا سیاسی منظر
’اتحاد کوئی بھی وزارتِ اعلٰی اے این پی کی‘
اسفندیار ولیاے این پی سندھ میں
سندھ میں پختونوں کی پہلی بار دو سیٹیں
سندھ یا مسائلستان
حکومت سازی اور آئندہ چیلنجز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد