BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 March, 2008, 15:31 GMT 20:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز ہی وزیراعلیٰ ہونگے: نواز

نواز شریف (فائل فوٹو)
حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے: نواز شریف
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ مرکز میں وزارتیں نہ لینے اور پنجاب میں حکومت بنانے کے فیصلے پر قائم ہیں اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ان کے بھائی شہباز شریف ہی بنیں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جب تک میاں شہباز شریف رکن اسمبلی منتخب ہوں اس وقت تک عبوری وقت کے لیے ان کی جماعت کا کوئی اور شخص وزیراعلیٰ بنے گا۔

اسلام آباد کے فرنٹیئر ہاؤس میں صحافیوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتدار میں شراکت اور حکومت سازی کے لیے ان کی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے حتمی بات چیت اتوار کو مری میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جو یہ تاثر دے رہی ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کا عوامی مینڈیٹ تقسیم شدہ ہے، وہ درست نہیں۔ ان کے مطابق اگر قوم کا مینڈیٹ تقسیم شدہ مان بھی لیا جائے تو بھی وہ صدر مشرف کے خلاف ہے جوکہ صدر صدق دل سے قبول نہیں کر رہے۔

 اگر قوم کا مینڈیٹ تقسیم شدہ مان بھی لیا جائے تو بھی وہ صدر مشرف کے خلاف ہے جوکہ صدر صدق دل سے قبول نہیں کر رہے
نواز شریف

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی قیادت احسن انداز میں فیصلے کر رہی ہے لیکن ایوان صدر کے رویے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔

ان کے بقول حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے جس سے انہیں حکومت کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی اور انہیں کسی سازش کی بو آرہی ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری نے تو کہا تھا کہ دو تین میں اجلاس بلایا جائے لیکن وہ کہتے ہیں کہ فوری بلایا جائے۔

حامد ناصر چٹھہ اور آصف علی زرداری کی ملاقاتوں کے بارے میں سوال پر کہا کہ جو کچھ بھی ہو لیکن انہیں (مسلم لیگ نواز) کنارے نہیں لگایا جاسکتا۔

فوج کے سیاست سے دور رہنے کے بارے میں آرمی چیف کے بیان کا انہوں نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے۔انہوں نے صدر پرویز مشرف پر الزام لگایا کہ انہوں نے ملک کو سوائے فاقوں، ڈاکوں، اندھیروں اور بم دھماکوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔

نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
نواز شریف کی واپسینواز شریف کی واپسی
نواز شریف کے استقبالیہ جلوس کی جھلکیاں
کلثوم کا عزم
سیاست میں آنا خواہش نہیں مجبوری
تیرے آنے کے بعد
نواز شریف کا آناجنرل مشرف کے لیے اچھا یا برا
اسی بارے میں
صدر کے استعفے کا مطالبہ
25 February, 2008 | پاکستان
الیکشن 8 جنوری کوہوں: شریف
31 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد