الیکشن 8 جنوری کوہوں: شریف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) کےسربراہ میاں محمد نواز شریف نے آٹھ جنوری کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف فوری طور پر مستعفی ہوجائیں اور ایک غیر جانبدار قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ روڈ پر جاتی عمرہ میں اپنے فارم ہاؤس میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد میاں نواز شریف نے آٹھ جنوری کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے نہ صرف خود الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا بلکہ مسلم لیگ(ن) سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ بھی بائیکاٹ نہ کرے۔ نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ پیپلز پارٹی اور سندھ کے لوگوں کے کہنے پر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی اور سندھ کےعوام انتخابات میں جانا چاہتے ہیں تو پھر کیوں نگران حکومت اب مسلم لیگ قاف کے کہنے پر الیکشن ملتوی کرنے کا سوچ رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ایوان صدر دھاندلیوں کے لیے مسلم لیگ قاف کا آلہ کار بنا ہوا ہے اور الیکشن کمیشن ان کا مہرہ ہے لیکن یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی وہ الیکشن میں جا کر ان کا مقابلہ کرنا چاہتےہیں۔’کیونکہ مسلم لیگ قاف کو اپنی شکست صاف نظر آ رہی ہے اس لیے وہ انتخابات ملتوی کراناچاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر آٹھ جنوری کو الیکشن نہ کرائے گئے تو مسلم لیگ نون احتجاج کرے گی اور حکومت مخالف تحریک چلائی جائے گی۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ میاں نواز شریف نےانتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے بعد یہ فیصلہ واپس لیا ہے۔اس سے پہلے انہوں نے اے پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر الیکشن کا بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا اور اس بار جب انہوں نے پیپلز پارٹی سےاظہار یکجہتی میں بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تو سیاسی مبصرین نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ بھی واپس ہو جائےگا۔ پیر کو دوسری بار بائیکاٹ کے فیصلہ کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے تین نکاتی مطالبات کا ایجنڈا پیش کیا جس کا پہلا نکتہ تھا کہ صدر مشرف فوری طور پر مستعفی ہو جائیں، اس سے ان کے بقول ملک سے بدامنی، بے چینی اور فساد کا بڑا سبب دور ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کسی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ وہ خود ایک مسئلہ ہیں ’اس شخص کو اب جانا ہے، یہ جا رہا ہے، بہتر ہے کہ مزید خون خرابے کے بغیر چلاجائے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کا دوسرا مطالبہ ہے کہ آئینی طریقہ کار کے مطابق نیا صدر تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور اتفاق رائے سے قومی حکومت قائم کرے اور ان کا تیسرا مطالبہ ہے کہ قومی حکومت اتفاق رائے سے طے کردہ اقدامات کے تحت آزادانہ، منصفانہ اور شفاف الیکشن کروائے۔ نواز شریف نےصدر مشرف کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں بدامنی،فسادات اور آگ و خون کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کی بنیادی وجہ صدر مشرف ہیں۔ انہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی بالواسطہ اور بلاواسطہ ذمہ داری مشرف حکومت پر عائد کی۔انہوں نےامریکہ اور مغربی اقوام سے کہا کہ وہ ایک ایسے شخص کی حمایت نہ کریں جو قانون کو روند رہا ہے اور جمہوریت کو تہس نہس کررہا ہے انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے انہیں ملک کے سولہ کروڑ عوام اور سیاسی جماعتوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بیرونی ممالک پاکستان کے اندرونی معاملات میں بے شک مداخلت نہ کریں لیکن آمریت کی حمایت نہ کریں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ صدر مشرف کے دورمیں عوام کو زخم لگائےجا رہے ہیں اور وہ ان پر مرحم رکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کل بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا تو مسلم لیگ نون ان کے ساتھ جاکر کھڑی ہوگئی آج سندھ کے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے تو مسلم لیگ نون ان کےغم میں شریک ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بنگلہ دیش والے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہائی کمِشنرز کی نواز شریف سے ملاقاتیں28 November, 2007 | پاکستان نواز شریف، بینظیر ملاقات پیر کو01 December, 2007 | پاکستان ’حتمی بائیکاٹ کا فیصلہ اجلاس میں‘01 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||