صدر کے استعفے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی آئین کو بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے سے پہلے کی پوزیشن پر لایا جائے۔ اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے گھر پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ مشرف کو فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے اور اقتدار کے عمل کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جتنی جلدی اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں ان کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی کے نومنتخب ارکانِ قومی اسمبلی ستائیس فروری کو ایک جگہ اکھٹے ہوں گے اور اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں نومنتخب آزاد ارکان بھی شرکت کریں گے اور یہ تعداد دو تہائی تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں جمہوریت پسند قوتیں کامیاب ہوئی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کا موقف ایک جیسا ہے۔ انہوں نے کہا ’حالیہ عام انتخابات کے دوران عوام نے پرویز مشرف کی حمائتی سیاسی جماعتوں کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور صدر کے لیے اب کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے کہ اقتدار کے ساتھ چمٹے رہیں۔‘ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ ان انتخابات کے بعد بننے والی حکومت ایک منتحب حکومت ہوگی اور ان کی جماعت اس حکومت کے لیے کوئی مشکلات کھڑی نہیں کرے گی۔ دہشت گردی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس حوالے سے اصل حقائق کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزاکرات سے ہر مسئلے کا حل ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے اگر بھارت سے بات چیت ہوسکتی ہے تو اپنے پاکستانی بھائیوں سے مزاکرات کیوں نہیں ہوسکتے۔ اس موقع پر راجہ ظفرالحق، ظفر اقبال جھگڑا بھی موجود تھے۔
دوسری طرف پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف سے فرنٹیر ہاوس میں ملاقات کی جس میں پاکستان کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ یہ ملاقات تقریبا پنتالیس منٹ جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں نواز شریف نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ساتھ ورکنگ ریلیشن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سال سے مشرف کی جو پالیساں ہیں ان کی وجہ سے ملک میں انتہا پسندی میں بےپناہ اضافہ ہوا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ برطانیہ اور ائرلینڈ کا مسلہ مزاکرات سے حل ہوسکتا ہے تو پھر دہشت گردی کو روکنے کے لیے ان لوگوں سے بات چیت کیوں نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے کہ عام انتخابات میں مشرف مخالف جماعتوں نے کامیابی حاصل کی ہے جس کے بعد میڈیا میں یہ باتیں گردش کرنا شروع ہوگئی ہیں کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اپنا عہدہ چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ تاہم ایوان صدر کے ترجمان نے اس کی تردید کی ہے۔ | اسی بارے میں مل کر حکومت بنائیں گے21 February, 2008 | پاکستان شدت پسندی، اے این پی کا بڑا چیلنج23 February, 2008 | پاکستان ’فوجی آمریت تحریک سے ختم نہیں ہوتی‘23 February, 2008 | پاکستان امریکی دباؤ میں نہ آئیں: عمران خان24 February, 2008 | پاکستان جمہوریت اور مشرف میں پھنسا امریکہ25 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||