شدت پسندی، ایک بڑا چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور خصوصاً صوبہ سرحد میں عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی نئی حکومتوں کے لیے باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سب سے بڑا چیلنج شدت پسندی کے جن کو واپس بوتل میں بند کرنے کا ہوگا۔ آئندہ وفاقی اور سرحد حکومت کے بارے میں اب تک ایک بات تو قدرے واضع ہوچکی ہے کہ یہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی پر مشتمل ہو گی۔ مرکز میں حکومت کی قیادت اگر پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں ہوگی تو سرحد میں اسے اے این پی کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ پختون قوم پرست کہلوانے والی عوامی نیشنل پارٹی کو اس انتہائی مشکل چینلج سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی قیادت کی ضرورت ہوگی۔ ایک ایسے رہنما کی جس کی ایک ’ویژن‘ ہو، جس کے پاس ایک واضع منصوبہ ہو۔ ماضی کی طرح ہوا میں باتیں یا جذباتی بیانات زیادہ کام نہیں آئیں گے۔ اگرچہ صوبہ سرحد میں اے این پی کی جیت کو شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ایک اچھا شگون مانا جا رہا ہے لیکن ناکامی کی صورت میں اس کے نتائج مزید خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ اے این پی نے شورش زدہ سوات ضلع میں صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں میں سے چھ جیتی ہیں جبکہ ایک نشست پر انتخاب امیدوار کی ہلاکت کی وجہ سے نہیں ہوسکا۔ تقریباً یہی نتائج قومی اسمبلی میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس سے واضع ہے کہ شدت پسندی سے بری طرح متاثرہ سوات جیسے علاقے کے لوگوں نے یک زباں ہوکر اے این پی سے بہتری کی آس لگائی ہے۔ اس امید پر پورا اترنا یقیناً ضروری لیکن آسان نہیں ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے محض حکومت میں آنے سے شدت پسندی ختم نہیں ہوجائے گی۔ اس کے لیے کئی مشکل اور کٹھن فیصلے کرنے ہوں گے۔ ابھی تک عوامی نیشنل پارٹی نے واضع نہیں کیا کہ وہ کس طرح شدت پسندی پر قابو پانے کی کوشش کرے گی۔
خدشہ ہے کہ کہیں ماضی کی طرح یہ جماعت ایک مرتبہ پھر صوبے کا نام تبدیل کرنے جیسے سطحی مسائل میں نہ الجھ کر رہ جائے۔ اسے اپنی ترجیحات میں واضع تبدیلی لانا ہوگی۔ وہ فی الحال محض مذاکرات کے ذریعے شدت پسندی پر قابو پانے کی بات کر رہی ہے۔ اس بات کو آگے بڑھانے کی ایک صورت قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے بات چیت کے لیے قومی و صوبائی اسمبلی کا ایک جرگہ روانہ کرنا ہوسکتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور میں قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرنے اور سیاسی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں سرگرمیاں شروع کرنے کی باضابطہ اجازت دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ لیکن اس کے لیے اسے مرکز میں سنجیدہ تعاون پر آمادہ اتحادی اور دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے اکثریتی مینڈیٹ اور اتحادی ہونے کے باوجود وہ نام تک کی تبدیلی نہیں کروا سکی تھی۔ اس مرتبہ اکثر جماعتیں کسی حد تک شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ان تجاویز سے متفق دکھائی دیتی ہیں لیکن اسے آئین کا حصہ بنانے پر کتنا آمادہ ہوں گی یہ کہنا مشکل ہے۔ عسکریت پسندی کے بھوت کے مقابلے کے لیے ایک اور اہم ترین ضرورت سویلین حکومتوں کے طابع ایک فوج کی ہوگی۔ اب تک یہ دیکھا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج ہی کی چلتی رہی ہے۔ اور تو اور سابق فوجی گورنر بھی بعض اوقات فوج کے سامنے بےاثر دکھائی دیے ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں مرکز اور صوبے میں مختلف جماعتوں کی حکومت ہونے کی وجہ سے جہاں کہیں اور مسائل بھی پیدا ہوئے وہیں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی ذمہ داری بھی ایک دوسرے پر ہی ڈالی جاتی رہی۔ اسے قابو کرنے میں ناکامی بھی اسلام آباد اور پشاور میں کسی نے بھی تسلیم نہیں کی۔ مرکز اور صوبے میں مخلوط حکومت کے سامنے آنے سے یہ بداعتمادی شاید ختم ہو سکے۔ لیکن بعض تجزیہ نگاروں کو خدشہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے اقتدار میں آنےسے پرتشدد کارروائی کے خاتمے سے قبل کہیں امن عامہ کی صورتحال مزید خراب نہ ہو۔ انتخابی مہم کے دوران اے این پی کے جلسوں پر حملوں سے واضع ہے کہ شدت پسند عناصر اس کی پالیسیوں سے کوئی زیادہ خوش نہیں۔ حکومت میں آنے کے بعد اے این پی کے مخالفین اسے کمزور کرنے کے لیے تشدد کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔
امریکیوں اور خود اے این پی کے رہنماؤں کو بھی آپس کے تعاون اور روابط میں احتیاط کرنا ہوگی۔ پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کی اسفندیار ولی سے ایک آدھ ملاقات تو ٹھیک ہے لیکن زیادہ قربت شکوک وشبہات کو جنم دے سکتی ہے۔ اے این پی پر امریکہ نواز پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کا الزام اس کے لیے عوام میں بداعتمادی جیسے مسائل میں اضافہ کرسکتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کو آئندہ چند ماہ میں حکومت سازی سے لے کر پالیسی سازی تک ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا۔ اگر ضروری ہو تو شدت پسند قیادت سے براہ راست رابطوں سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اصل مسئلہ ہے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی سوچ میں تبدیلی لانے کا۔ اس لیے اب سب نظریں صوبہ سرحد کی نئی حکومت پر لگی ہوئی ہیں۔ |
اسی بارے میں پی پی:مزید حمایت حاصل کرنےکادعوٰی22 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق21 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں اے این پی کی اکثریت19 February, 2008 | الیکشن 2008 فاٹا میں دس سیٹوں پر الیکشن19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||