BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 February, 2008, 00:46 GMT 05:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی سیاست اور سرگرم مغربی سفارتکار

این ڈبلیو پیٹرسن(فائل فوٹو)
امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سب سے زیادہ متحرک دکھائی دے رہی ہیں
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتائج آنے کے بعد مغربی ممالک کے پاکستان میں تعینات سفیر ایک مرتبہ پھر سرگرم ہوگئے ہیں اور گزشتہ تین روز میں متوقع نئی حکومت میں شامل جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے نے جمعہ کو اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ یہ گزشتہ چند روز میں برطانوی سفیر کی ان سے دوسری ملاقات ہے۔ دونوں شخصیات نے انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ادھر موجودہ سیاسی صورتحال میں سب سے زیادہ متحرک پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کا اہم سیاستدانوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آ رہا۔

پی پی پی کا دباؤ سے انکار
 کچھ لوگوں کے خیال میں امریکہ صدر پرویز مشرف کی حمایت میں پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی بجائے دیگر جماعتوں سے مل کر مخلوط حکومت قائم کرے۔ تاہم پیپلز پارٹی اس قسم کے کسی دباؤ سے انکار کر رہی ہے۔
جمعے کے روز انہوں نے ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کے شریک چیرپرسن آصف علی زرداری کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت سازی کے عمل کو کافی باریک بینی سے ناصرف دیکھ رہے ہیں بلکہ چلانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تاہم اس سے ایک روز قبل آصف علی زرداری کی اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے امریکی سفیر سے ملاقات کے لیے جانے کی وجہ سے بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

کچھ لوگوں کے خیال میں امریکہ صدر پرویز مشرف کی حمایت میں پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی بجائے دیگر جماعتوں سے مل کر مخلوط حکومت قائم کرے۔ تاہم پیپلز پارٹی اس قسم کے کسی دباؤ سے انکار کر رہی ہے۔

امریکہ کے تین سرکردہ سینٹروں کے ایک وفد نے بھی گزشتہ منگل آصف زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی جس میں امریکی سفیر بھی موجود تھیں۔ سینٹر جوزف بائیڈن، سینٹر جان کیری اور سینٹر چک ہیگل نے ان سے کہا کہ وہ اعتدال پسند قوتوں سے مل کر حکومت تشکیل دیں۔

سرکاری بیان
 صدر نے امریکی قانون سازوں کو دہشت گردی کے انسداد کے لیے پاکستان کی جامع حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا جو فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی واقتصادی اقدامات پر محیط ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے اور صحیح راہ پر گامزن ہے جسے سیاسی جہت اور سماجی و اقتصادی پروگراموں کی ضرورت ہے۔
تین امریکی سینٹروں کی روانگی کے فورا بعد مزید دو سینٹر پاکستانی دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے امریکی سینیٹر کے بیلے ہوچی سن اور رکن کانگریس مائیکل برجس سے جمعہ کو یہاں ملاقات کی۔

انہوں نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات پاکستان میں جمہوری عمل اور اعتدال پسندی کی فتح ہیں۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق صدر نے امریکی قانون سازوں کو دہشت گردی کے انسداد کے لیے پاکستان کی جامع حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا جو فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی واقتصادی اقدامات پر محیط ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے اور صحیح راہ پر گامزن ہے جسے سیاسی جہت اور سماجی و اقتصادی پروگراموں کی ضرورت ہے۔

صدر نے پاکستان کے لیے امریکی معاونت کو سراہتے ہوئے اس حوالے سے اپروپرایشنزکمیٹی کے کردار کو اجاگر کیا۔ سینیٹر کے بیلے ہوچی سن اس کمیٹی کے با اثر رکن رہیں اور کانگریس کی ریپبلکن پالیسی کمیٹی کے صدر ہیں جبکہ رکن کانگریس مائیکل برجس توانائی اور کامرس کی کمیٹی کے رکن ہیں۔

اسی بارے میں
پی پی کی ترجیحات کا اعلان
22 February, 2008 | پاکستان
مل کر حکومت بنائیں گے
21 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد