پاکستانی سیاست اور سرگرم مغربی سفارتکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتائج آنے کے بعد مغربی ممالک کے پاکستان میں تعینات سفیر ایک مرتبہ پھر سرگرم ہوگئے ہیں اور گزشتہ تین روز میں متوقع نئی حکومت میں شامل جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے نے جمعہ کو اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ یہ گزشتہ چند روز میں برطانوی سفیر کی ان سے دوسری ملاقات ہے۔ دونوں شخصیات نے انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ادھر موجودہ سیاسی صورتحال میں سب سے زیادہ متحرک پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کا اہم سیاستدانوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آ رہا۔
تاہم اس سے ایک روز قبل آصف علی زرداری کی اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے امریکی سفیر سے ملاقات کے لیے جانے کی وجہ سے بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں امریکہ صدر پرویز مشرف کی حمایت میں پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی بجائے دیگر جماعتوں سے مل کر مخلوط حکومت قائم کرے۔ تاہم پیپلز پارٹی اس قسم کے کسی دباؤ سے انکار کر رہی ہے۔ امریکہ کے تین سرکردہ سینٹروں کے ایک وفد نے بھی گزشتہ منگل آصف زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی جس میں امریکی سفیر بھی موجود تھیں۔ سینٹر جوزف بائیڈن، سینٹر جان کیری اور سینٹر چک ہیگل نے ان سے کہا کہ وہ اعتدال پسند قوتوں سے مل کر حکومت تشکیل دیں۔
انہوں نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات پاکستان میں جمہوری عمل اور اعتدال پسندی کی فتح ہیں۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق صدر نے امریکی قانون سازوں کو دہشت گردی کے انسداد کے لیے پاکستان کی جامع حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا جو فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی واقتصادی اقدامات پر محیط ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے اور صحیح راہ پر گامزن ہے جسے سیاسی جہت اور سماجی و اقتصادی پروگراموں کی ضرورت ہے۔ صدر نے پاکستان کے لیے امریکی معاونت کو سراہتے ہوئے اس حوالے سے اپروپرایشنزکمیٹی کے کردار کو اجاگر کیا۔ سینیٹر کے بیلے ہوچی سن اس کمیٹی کے با اثر رکن رہیں اور کانگریس کی ریپبلکن پالیسی کمیٹی کے صدر ہیں جبکہ رکن کانگریس مائیکل برجس توانائی اور کامرس کی کمیٹی کے رکن ہیں۔ | اسی بارے میں ’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘22 February, 2008 | پاکستان پی پی کی ترجیحات کا اعلان22 February, 2008 | پاکستان ’نئی حکومت ججز کو بحال کرائے‘22 February, 2008 | پاکستان مشرف کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا21 February, 2008 | پاکستان مل کر حکومت بنائیں گے21 February, 2008 | پاکستان موقع نہ جانے دیں: اعتزاز، عمران22 February, 2008 | الیکشن 2008 ’حلف مشرف کے ہاتھوں اٹھانا ہوگا‘22 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||