’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے امریکی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے صدر (ر) جنرل پرویز مشرف کی حمایت کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان کی حمایت نہ کریں۔ یہ رد عمل سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ واشِنگٹن کو امید ہے وہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ مسلم لیگ ن کے انفارمیشن سیکریڑی احسن اقبال نے کہا کہ اگر امریکہ یا کسی اور ملک نے پاکستان کے صدر جنرل (ر) جنرل پرویز مشرف کو مسلط رکھنے کی کوشش کی تو اس سے یہ مراد لی جائے گی کہ پاکستانی عوام کی امنگیں ان ممالک کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی انتظامیہ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی عوام نے پرویز مشرف کی پالسیوں کے خلاف واضح مینڈیٹ دیا ہے اور عوام نے پرویز مشرف کی حمایتی قوتوں کو عبرت ناک شکست دی ہے۔‘ احسن اقبال نے مزید کہا کہ’ اگر امریکہ یا کسی اور ملک نے پرویز مشرف کو پاکستا پر مسلط رکھنے کی کوشش کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ پاکستانی قوم کی امنگوں کو مسترد کر رہے ہیں اور پاکستانی عوام کے ساتھ محاز آرائی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ کسی بھی صورت پاکستان اور ان ممالک کے درمیان تعلقات کے مفاد میں نہیں ہوگا۔‘ اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں صدر (ر) جنرل مشرف کی مخالف جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ دونوں جماعتوں نے صدر (ر) جنرل پرویز مشرف سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کا موقف ہے کہ معزول ججوں کو بحال کیا جائے۔ لیکن اس معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف واضح نہیں۔ امریکہ کی طرف سے متضاد اشارے مل رہے ہیں۔ جمعرات کو وائٹ ہاوس کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے حامیوں کی انتخاب میں شکست کے بعد ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اب پاکستانی عوام نے کرنا ہے، جبکہ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا بیان مختلف ہے۔
مسلم لیگ کے سیکریڑی انفارمیشن احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی حکومت سازی اور عدلیہ کی بحالی کے معاملات پاکستان کی عوام کے ایشوز ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’ہم پاکستانی حکومت سازی، داخلی یا سیاسی معاملات میں مداخلت پسند نہیں کرتے۔‘ اسی دوران اسلام آباد میں مغربی سفارت کاروں کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ جمعہ کے روز برطانوی ہائی کمشنر نے فرنٹئیر ہاؤس میں میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی اور مسلم لیگ ن کے قائد فرانس کے سفیر کو ان کے سفارت خانے میں ملے۔ مسلم لیگ کے انفارمیشن سیکریڑی احسن اقبال نے ان ملاقاتوں کو معمول کی ملاقاتیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی سفارت کار حکومت سازی کے عمل کے بارے میں اپنے آپ کو آگاہ رکھنا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ نے مشرف کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا21 February, 2008 | پاکستان مل کر حکومت بنائیں گے21 February, 2008 | پاکستان تمام ججز کو بحال کریں گے: نواز21 February, 2008 | پاکستان ’دھاندلی پر فوجی امداد کی بندش‘15 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||