احمدنور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | عمران خان نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا |
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے آزاد عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد کو امریکہ کے دباؤ میں آ کر ترک کیا تو اے پی ڈی ایم اس کے خلاف تحریک چلائے گی۔ عمران خان نے جوآل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما بھی ہیں یہ بات اتوار کی شام تحریک انصاف کے مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کو خدشہ ہے کہ کہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز جارج بش انتظامیہ کے دباؤ میں آ کر عدلیہ کی بحالی کی تحریک سے کنارہ کشی نہ اختیار کر لیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ صدر مشرف غیرآئینی صدر ہیں کیونکہ اُنہوں نے صدر بننے کے لئے تین نومبر کو ’پی سی او‘ نافذ کر کے عدلیہ کا قتل کیا تھا۔ اُن کے مطابق کونڈو لیزا رائس کا صدر مشرف کو آئینی صدر قرار دینے کا بیان ہمارے ملکی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے اور اُن کی جماعت اس بات کی مذمت کرتی ہے۔ اُن کے بقول عدلیہ کو آزاد کروانے کی جدوجہد محض افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے حامیوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مخالفین کی جنگ ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ جنگ پاکستان میں کئی دہائیوں سے رائج فرسودہ نظام کو نہ ختم ہونے دینے والوں اور ایک نیا پاکستان دیکھنے کے خواہشمند لوگوں کے درمیان جنگ ہے یعنی عدلیہ کا پاکستانی عوام کےمستقبل سے براہ راست تعلق ہے۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ بلوچستان اور وزیرستان میں اپنی عوام کے خلاف لڑنے والی فوج کو واپس بلائیں اور اس مسئلے کاکوئی سیاسی حل نکالیں۔ |