جمہوریت اور مشرف میں پھنسا امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عام انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد سے بیرونی دنیا میں سب سے زیادہ تذبذب اور پریشانی کا شکار امریکی دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے مشرف حامی بیانات اور پاکستان میں سفیر کا متحرک ہونا اس تاثر کی واضع دلیلیں ہیں۔ پرانے ساتھی کو تنہا اور غمزدہ پا کر دوست ہی داس رسی کے لیے آتے ہیں۔ اٹھارہ فروری کو عوامی خواہشات واضع ہونے کے باوجود امریکہ اگر صدر پرویز مشرف کی حمایت کر رہا ہے تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ ماضی کو کوئی زیادہ ٹٹولنے کی ضرورت نہیں۔ شاہ ایران کی واضع مثال ہمارے سامنے ہے۔ عام انتخابات سے جہاں ملک کے سولہ کروڑ عوام کو جمہوریت کی جانب پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے، وہیں امریکیوں کو پریشانی لاحق ہو گئی ہے۔ وہ مشکل میں پڑ گئے ہیں کہ جمہوریت کا خیرمقدم کریں یا اپنے ساتھی صدر مشرف اور ان سے جڑی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا بچاؤ کریں۔ امریکی اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کی ہار سے شدت پسندی کو دھچکا ضرور لگے گا لیکن جیتنے والی جماعتیں صدر مشرف اور ان کی پالیسیوں کی مخالف زیادہ ہیں۔ نئی پاکستانی مخلوط حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں کیا پالیسی ہوگی؟ یہ خدشات انہیں بےچین کیے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز نے تو شدت پسندی کے خلاف کوئی زیادہ بیان بازی نہیں کی ہے لیکن پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کہہ چکے ہیں کہ وہ سیاسی طریقے سے قبائلی شدت پسندوں سے نمٹنا چاہیں گے۔ شاید ایسی ہی یقین دہانیوں کی تلاش میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن آج کل اسلام آباد کی سڑکوں پر دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ خود مغربی میڈیا ہی صدر مشرف کے مستعفی ہونے جیسی خبریں شائع کر رہا ہے۔ صدارتی ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کو گزشتہ روز برطانوی روزنامہ ’سنڈے ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ کو مسترد کرنا پڑا جس میں کہا ہے کہ اس بے بنیاد رپورٹ میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ترجمان نے وضاحتی بیان میں کہا کہ برطانوی روزنامہ کی رپورٹ میں کسی شخص کا نام نہیں دیا گیا جس سے خبر کی صداقت مشکوک ہو جاتی ہے۔ ’اگر اس طرح کی کوئی بات ہوتی تو صدر پاکستانی عوام کو بتانا پسند کرتے۔‘ انہوں نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ ایسے موقع پر جب پاکستان میں انتقال اقتدار کی پرامن منتقلی کا عمل حتمی مراحل میں ہے، ایسی بے بنیاد خبروں کے ذریعہ ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم مقامی طالبان نے بھی ایک ابہام دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا نئی مخلوط حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ صدر مشرف کی پالیسیوں سے دور رہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی میں یہ دوری اور نئی جدت مخلوط حکومت کیسے لا پائے گی ابھی دیکھنا باقی ہے۔ انتخابات دیکھنے کے لیئے آئے تین سرکردہ امریکی سینٹرز نے روانگی سے قبل پریس کانفرنس میں تو ایسی بات کرنے سے اعتراز کیا اور صدر مشرف کا خوب دفاع کیا۔ لیکن واپس امریکہ پہنچ کر امریکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے جوزف بڈن نے بھی انہیں ’محفوظ راستہ‘ دینے کی بات کی ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن صدارتی امیدوار سینٹر جان مک کین صدر کے استعفے کو مسترد کرچکے ہیں۔ ان بیانات سے امریکیوں کی صدر مشرف کے لیے تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ موجودہ صورتحال میں امریکیوں کے لیےحالات کوئی اتنے سازگار نہ ہونا بھی ہے۔ صدر مشرف کی جماعت کی ہار، مخلوط حکومت کے یقینی امکانات، ججوں کے قضیے کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام اور سرحد میں فوجی کارروائیوں کے مخالف پختون قوم پرستوں کی واپسی بعض اشوز ہیں جو امریکیوں کو سوچ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ ایک مستحکم سیاسی حکومت کے قیام کے بعد امریکہ کے پاس پاکستان کو کمزور ظاہر کرکے خود کارروائی کرنے کا جواز بھی ختم ہوگیا ہے۔ اب پاکستان شاید ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت انداز میں فوجی کارروائیوں کے لیے دباؤ کا مقابلہ کرسکے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے بقول امریکہ کے لیئے بہتر ہوگا کہ وہ پاکستان کی بجائے افغانستان میں مزاحمت کے خاتمے اور حالات کی بہتری پر تمام تر توجہ مرکوز کرے۔ وہاں سے غیرملکی افواج کی واپسی کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں سے شدت پسندوں کے پاس سرحد پار کارروائی کے لیے جواز ختم ہوجائے گا۔ مسئلے کے حل کی کنجی افغانستان میں ہے نہ کہ پاکستان میں۔ |
اسی بارے میں طالبان کا سیاسی جماعتوں کو پیغام24 February, 2008 | پاکستان طالبان کا لہجہ مصالحانہ24 February, 2008 | پاکستان پولیٹکل مینجمنٹ کرتے ہیں: احتشام ضمیر24 February, 2008 | پاکستان ’فوجی آمریت تحریک سے ختم نہیں ہوتی‘23 February, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے ساتھ کام کا عزم23 February, 2008 | پاکستان پی پی کی ترجیحات کا اعلان22 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||