اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | صدر کے دعوے پر سندھ کے ایک کردار وتایو فقیر کا ٹوٹکا یاد آتا ہے |
دنیا بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان میں اٹھارہ فروری کے انتخابات شفاف ہوں گے یا نہیں۔ خاص طور پر امریکہ اور یورپ والے خدشات ظاہر کر رہے ہیں جبکہ صدر پرویز مشرف وضاحتیں پیش کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین نے کھلم کھلا کہنا شروع کردیا ہے کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو پاکستان کی امداد بند ہو جائے گی اور مختلف نوعیت کی پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔ انتخابات کے حوالے سے جہاں تک پاکستان میں پائی جانے والی مختلف آراء کا تعلق ہے تو ان میں ماسوائے مسلم لیگ (ق) اور سابقہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے، اکثر سیاسی جماعتیں اٹھارہ فروری کو دھاندلی کا خدشہ ظاہر کر رہی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ مسلم لیگ (ق) کے سوا باقی جماعتیں حکومت پر انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہیں۔ پاکستان میں عام انتخابات کی شفافیت پر نظر رکھنے والے غیر ملکی و ملکی ادارے، چاہے وہ نیشنل ڈیمو کریٹک انسٹیٹیوٹ یعنی این ڈی آئی ہو یا پھر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمینٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی یعنی پلڈاٹ، سب نے ’پری پول رگنگ‘ پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے نہ صرف نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر شبہہ ظاہر کیا ہے بلکہ ضلع ناظمین کو انتخابی عمل سے دور نہ رکھنے پر بھی اعتراضات کیے ہیں۔ پاکستان کےایک سو سے زائد اضلاع میں سے شاید ہی کوئی ایسا ضلع ہو جہاں ضلع ناظم کا بھائی، بہن، بیٹا، بیٹی یا کوئی قریبی رشتہ دار انتخاب میں حصہ نہ لے رہا ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں یہ خدشات بے جا نہیں کہ ضلع ناظمین پولیس اور پیسے سمیت تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اپنے عزیزوں کو جتوانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے باوجود صدر پرویز مشرف کہتے ہیں کہ ضلع ناظمین کو معطل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ان کی معطلی کے بنا ہی شفاف انتخابات ہوں گے۔ ایسے میں ان کے اس دعوے پر سندھ کے ملا نصیر الدین جیسے ایک کردار وتایو فقیر کا ایک ٹوٹکا یاد آرہا ہے۔ وتایو فقیر سے ایک روز والدہ نے کہا کہ سنا ہے کہ بیٹا تم بزرگ ہوگئے ہو اور جو بھی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہو وہ قبول ہو جاتی ہے۔ وتایو فقیر بڑا خوش ہوا کہ والدہ بھی آج ان سے کچھ کہنے والی ہیں۔ وتایو کی والدہ نےکہا کہ بیٹا آج دعا مانگ کہ پڑوس والوں کا گدھا مرجائے کیونکہ وہ روزانہ ہماری گائے کا چارہ کھا جاتا ہے۔ وتایو فقیر نے دعا مانگی کہ یا اللہ اس گدھے کو مار دے۔ اگلی صبح وتایو کی والدہ نے دیکھا کہ ان کی گائے مری ہوئی تھی۔ ایسے میں وتایو کی والدہ نے سوئے ہوئے بیٹے کو پیٹنا شروع کردیا۔ خیر وتایو گاؤں کے ایک نابینا شخص کو گھر لے آیا اور انہیں کہا کہ وہ مرے ہوئے جانور کو ذرا ہاتھ لگا کر بتائیں کہ وہ گائے ہے یا گدھا۔ اس نابینا شخص نے کہا کہ یہ تو گائے ہے۔ وتایو نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اس نابینا کو بھی پتہ ہے کہ یہ گدھا نہیں ہے۔
|