صدر مشرف کی برھمی اور حکومت کی وضاحت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نےتردید کی ہے کہ صدر پرویز مشرف نے اپنے دورہ برطانیہ میں لوگوں کوصحافیوں کےخلاف تشدد پر اکسایا تھا۔ حکومت نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اس بیان کو افسوسناک قرار دیا جس میں صدر پرویز مشرف کے لندن میں انگریزی اخبار ڈان کے نمائندے ایم ضیاالدین کے خلاف کلمات کی مذمت کی تھی۔وضاحتی بیان میں اصرار کیا گیا ہے کہ صدر نے کسی بھی موقع پر لوگوں کو صحافیوں کے خلاف تشدد پر نہیں اکسایا۔ صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی جانب سے یہ وضاحتی بیان ان کے یورپی ممالک آج وطن واپسی کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں پاکستانی برادری سے خطاب میں گزشتہ دنوں صدر نے انگریزی اخبار ڈان کے نامہ نگار ایم ضیاالدین سے متعلق اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے لوگوں کو روکنا چاہیے اور اگر ان جیسا کوئی ہو تو انہیں ’ایک دو ٹکا بھی دیں۔‘ صدر مشرف کی ٹکانے کی یہ تجویز متنازعہ بنی گئی اور مختلف قومی اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس کی مذمت کی۔ تاہم آج حکومت کی جانب سے جاری ایک وضاحتی بیان میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر افسوس کیا۔ بیان میں اصرار کیا گیا ہے کہ صدر نے کسی بھی موقع پر لوگوں کوصحافیوں کے خلاف تشدد پر نہیں اکسایا یا عدم برداشت کا پرچار کیا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نےصدر کی قیادت میں معاشرے میں برادشت اور کھلے پن کی جانب کافی پیش رفت کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کو کوئی بھی سوال پوچھنے کا حق تسلیم کرتے ہوئے ترجمان نے اسے بےلاگ اور مخلص جواب سننے کی قوت پیدا کرنے کا مشورہ دیا۔ بیان میں واضح کیاگیا کہ صدر نے کسی موقع پر کسی صحافی کو کوئی دھمکی نہیں دی بلکہ دوسرے روز ایم ضیاالدین کو ہائی کمیشن میں ایک تقریب میں مدعو کیا جس میں وہ شریک ہوئے۔ | اسی بارے میں ’دو تین ٹِکا دیں تو اچھا ہے‘26 January, 2008 | پاکستان صدر مشرف صحافی پر برس پڑے 25 January, 2008 | پاکستان معاملہ پارلیمان میں اٹھاؤں گا: لارڈ نذیر28 January, 2008 | پاکستان لندن میں مشرف مخالف مظاہرہ26 January, 2008 | پاکستان صدرمشرف کا دورہ ’ورکنگ وزٹ‘ ہے 23 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||