صدرمشرف کا دورہ ’ورکنگ وزٹ‘ ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر کا دورہ یورپ ایک ’ورکنگ وزٹ‘ ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بدھ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ یورپ و دیگر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے بیشتر تبادلے ورکنگ وزٹ کے طور پر ہوتے ہیں جن کےلئے باضابطہ تحریری دعوت ناموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم سفارتی ذرائع سے ان دوروں پر اتفاق رائے کیا گیا تھا اور دورے کی تاریخوں، ملاقاتوں اور دیگر مصروفیات کا پیشگی انتظام کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج کے عالمگیریت کے اس دور میں ممالک کے دوران باقاعدگی سے مشاورت انتہائی ضروری ہے اور صدر کے دورہ یورپ کا مقصد سیاسی اور اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کے نئے نظام متعارف کرنے کے خلاف ہے۔ اس خطے کو ہتھیاروں کے نئے نظاموں کی نہیں بلکہ اقتصادی و سماجی ترقی کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں مختلف سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک بھارت جامع مذاکرات کا چوتھا دور مکمل ہوچکا ہے جبکہ خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات مستقبل قریب میں ہوگی۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران نے گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخطوں کےلئے پاکستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے کوئی شرط عائد نہیں کی۔ انہوں نے اس بارے میں میڈیا رپورٹس کو غلط قرار دیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ طاقت کے نئےمراکز قائم کرنے کے خلاف ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے برطانیہ کی جانب سے سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کے متعلق سوال پر کہا کہ کونسل میں اصلاحات اور توسیع اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے کا انتہائی اہم معاملہ ہے۔ ’پاکستان طاقت کے نئےمراکز قائم کرنے کے خلاف ہے۔ ہم ایسی منصفانہ اور مساویانہ اصلاحات چاہتے ہیں جن سے چند رکن ممالک کی بجائے سب کے مفادات کا تحفظ ہو۔‘ ترجمان نے کہا کہ ہم سلامتی کونسل میں نمائندگی کے حوالے سے تمام علاقائی گروپوں کےلئے مساوی اور غیر امتیازی طرز عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وسیع تر ممکنہ سمجھوتے یا اتفاق رائے کی مدد سے بات چیت کے ذریعے حل تلاش کر رہا ہے۔ پاکستان اتحاد برائے اتفاق رائے گروپ کا بھی متحرک رکن ہے جو سلامتی کونسل میں توسیع کے خلاف ہے۔ | اسی بارے میں ’دورے کی دعوت نہیں دی گئی‘19 January, 2008 | پاکستان مشرف کا دورۂ یورپ، احتجاج کا سامنا21 January, 2008 | پاکستان مشرف کو تلاش عالمی ہمدردی کی22 January, 2008 | پاکستان پاکستان کی مدد کرینگے: سرکوزی23 January, 2008 | پاکستان بان کی مون پر پاکستان ناراض07 November, 2007 | پاکستان جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان08 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||