BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدرمشرف کا دورہ ’ورکنگ وزٹ‘ ہے

مشرف یورپی پارلیمنٹ میں
صدر کا دورہ یورپ ایک ’ورکنگ وزٹ‘ ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر کا دورہ یورپ ایک ’ورکنگ وزٹ‘ ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بدھ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ یورپ و دیگر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے بیشتر تبادلے ورکنگ وزٹ کے طور پر ہوتے ہیں جن کےلئے باضابطہ تحریری دعوت ناموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تاہم سفارتی ذرائع سے ان دوروں پر اتفاق رائے کیا گیا تھا اور دورے کی تاریخوں، ملاقاتوں اور دیگر مصروفیات کا پیشگی انتظام کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے عالمگیریت کے اس دور میں ممالک کے دوران باقاعدگی سے مشاورت انتہائی ضروری ہے اور صدر کے دورہ یورپ کا مقصد سیاسی اور اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کے نئے نظام متعارف کرنے کے خلاف ہے۔ اس خطے کو ہتھیاروں کے نئے نظاموں کی نہیں بلکہ اقتصادی و سماجی ترقی کی ضرورت ہے۔

مسئلہ کشمیر کے بارے میں مختلف سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک بھارت جامع مذاکرات کا چوتھا دور مکمل ہوچکا ہے جبکہ خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات مستقبل قریب میں ہوگی۔

سلامتی کونسل میں توسیع
 پاکستان طاقت کے نئے مراکز قائم کرنے کے خلاف ہے۔ ہم ایسی منصفانہ اور مساویانہ اصلاحات چاہتے ہیں جن سے چند رکن ممالک کی بجائے سب کے مفادات کا تحفظ ہو۔
محمد صادق

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران نے گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخطوں کےلئے پاکستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے کوئی شرط عائد نہیں کی۔ انہوں نے اس بارے میں میڈیا رپورٹس کو غلط قرار دیا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ طاقت کے نئےمراکز قائم کرنے کے خلاف ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے برطانیہ کی جانب سے سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کے متعلق سوال پر کہا کہ کونسل میں اصلاحات اور توسیع اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے کا انتہائی اہم معاملہ ہے۔

’پاکستان طاقت کے نئےمراکز قائم کرنے کے خلاف ہے۔ ہم ایسی منصفانہ اور مساویانہ اصلاحات چاہتے ہیں جن سے چند رکن ممالک کی بجائے سب کے مفادات کا تحفظ ہو۔‘

ترجمان نے کہا کہ ہم سلامتی کونسل میں نمائندگی کے حوالے سے تمام علاقائی گروپوں کےلئے مساوی اور غیر امتیازی طرز عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وسیع تر ممکنہ سمجھوتے یا اتفاق رائے کی مدد سے بات چیت کے ذریعے حل تلاش کر رہا ہے۔

پاکستان اتحاد برائے اتفاق رائے گروپ کا بھی متحرک رکن ہے جو سلامتی کونسل میں توسیع کے خلاف ہے۔

اسی بارے میں
’دورے کی دعوت نہیں دی گئی‘
19 January, 2008 | پاکستان
بان کی مون پر پاکستان ناراض
07 November, 2007 | پاکستان
جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان
08 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد