’دورے کی دعوت نہیں دی گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت نے پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) مشرف کے آئندہ ہفتے کے دورۂ برطانیہ کے بارے میں کہا کہ صدرِ پاکستان یہ دورہ برطانوی حکومت کی دعوت پر نہیں کر رہے ہیں۔ برطانیہ دفترِ خارجہ کی ترجمان نتاشا خان نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدرِ پاکستان یہ دورہ اپنے طور پر کر رہے ہیں اور برطانوی حکومت کی طرف سے اس کی کوئی باضابط دعوت نہیں دی گئی ہے۔ اس دورے میں وزیر اعظم گورڈن براؤن سے جنرل مشرف کی ملاقات طے ہونے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم کی مصروفیات اور ملاقاتوں کے پروگرام پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں اور وزیر اعظم کا دفتر ہی اس بارے میں کوئی حتمی بات کہہ سکتا ہے۔ عموماً برطانوی حکومت کی دعوت پر آنے والے غیر ملکی سربراہان سے برطانوی وزیر اعظم ملاقات بھی کرتے ہیں اور ان کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ بھی دیا جاتا ہے۔ صدر مشرف یورپ کے دورے کے بعد چھبیس جنوری کو برطانیہ پہنچ رہے ہیں اور پروگرام کے مطابق وہ یہاں چار دن قیام کریں گے۔ یورپی یونین کے صدر دفتر برسلز میں پاکستان کے سفیر خالد سعید نے بتایا کہ ان کا دورہ چار مراحل پر مشتمل ہے۔ اس سوال پر کہ بیلجیم، فرانس اور یورپی اتحاد کے دورے کی باضابط دعوت دی گی تھی پاکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ چونکہ صدر مشرف ڈیووس کے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے آ ہی رہے تھے اس لیے بیلجیم اور فرانس میں بھی ان کے دورے کا انتظام کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں صدر مشرف اتوار سے دورہ شروع19 January, 2008 | پاکستان پریشانی کی کوئی وجہ نہیں: مشرف18 January, 2008 | پاکستان ’فوجی سیاستدانوں سے نہ ملیں‘18 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||